بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

قانون کی حکمرانی،113ممالک میں پاکستان کس نمبرپر ہے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ نے قانون کی حکمرانی سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق قانون کی حکمرانی کے معاملے میں پاکستان 113ممالک میں سے 106 نمبر پر ہے۔امریکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سرکاری کاموں کے لئے 78 فیصد عوام سرکاری ملازمین کو رشوت دیتے ہیں جب کہ 74 فیصد عوام پولیس کو رشوت دیتے ہیں، کرپٹ افسران کو سزا کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن ہے

صرف 18 فیصد کرپٹ سرکاری افسران و ملازمین کو سزا دی جاتی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں بھارت 19 فیصد، افغانستان 24 فیصد، سری لنکا 42 فیصد، بنگلادیش 45 اور نیپال میں 49 فیصد کرپٹ سرکاری ملازمین سزا کے مستحق ٹہھرتے ہیں۔امریکی ادارے کی رپورٹ نے قانون کی بالادستی کے لئے صوبوں کی کارکردگی انڈیکس بھی جاری کی ہے .خیبرپختونخوا قانونی کی حکمرانی میں سرفہرست ہے جب کہ جدید قانون متعارف کرانے میں پنجاب سرفہرست ہے۔کرپٹ افسران کو سزا کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن ہے اور صرف 18 فیصد کرپٹ سرکاری افسران و ملازمین کو سزا دی جاتی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں بھارت 19 فیصد، افغانستان 24 فیصد، سری لنکا 42 فیصد، بنگلادیش 45 اور نیپال میں 49 فیصد کرپٹ سرکاری ملازمین سزا کے مستحق ٹہھرتے ہیں۔امریکی ادارے کی رپورٹ نے قانون کی بالادستی کے لئے صوبوں کی کارکردگی انڈیکس بھی جاری کی ہے جس کے مطابق خیبرپختونخوا قانونی کی حکمرانی میں سرفہرست ہے جب کہ جدید قانون متعارف کرانے میں پنجاب سرفہرست ہے۔دوسری طرف ایک اورادارے پلڈاٹ نے بھی پاکستان میں  میں قانون کی حکمرانی کی گرتی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کے فنڈذ میں خورد برد کرنے کے علاوہ کرپٹ افسران کو سزا اور تفتیش کے معاملے میں پاکستان 6 سارک ممالک میں سب سے نیچے ہےجوکہ تشویشناک صورتحال ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…