منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

بھارت نے اگر پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ پرویزاشرف نے لرزہ خیز انتباہ کردیا

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے نوازشر یف سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوازشر یف کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ‘پیپلزپارٹی والوں اور (ن) لیگ والوں کے لئے الگ الگ قانون نہیں ہونا چاہیے ‘مجھ پر بے روز گاروں کو نوکر یاں دینے پر مقدمہ چل رہا ہے کیا بے روزگاروں کو نوکر یاں دینا جر م ہے ؟بھارت صرف دھمکیاں دے رہا ہے

افواج پاکستان اور پاکستانی قوم دشمن کا ہر وقت مقابلہ کر نے کیلئے تیار ہے بھارت کسی بھول کا شکار نہ رہے تو اچھا ہوگا۔ احتساب عدالت میں پیشی کے بعداور پر یس کا نفر نس سے خطاب کر تے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستانی کے اندرونی حالات اور خصوصاً پڑوسی ممالک سے کشیدگی کے معاملات قابل تشویش ہیں ،ان معاملات کو سنبھالنے کیلئے اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے ۔ بد قسمتی سے حکمران آپس میں دست و گریبان ہیں اور سیاسی شخصیات ملکی سیاست کو جس نہج پر لے آئے ہیں جہاں پر رواداری ور رکھ رکھا ؤ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افوج اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے الرٹ ہیں اور پوری قوم ان کی پشت پر ہے ،ہماری بہادر افواج اور قوم نے ملک کی حفاظت کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے حکومت خارجہ محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور پڑوسیوں کے برتاؤ کی علامات اچھی نہیں ۔ بھارت کی طرف سے پاکستانی طلبہ کو واپس بھیجنا افسوسناک ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ہم اسی دوہرے معیار کی بات کرتے ہیں کہ جب آپ دوستیوں کے دعویدار ہوں تو ریاست کے معاملات ایسے نہیں چلتے اور ایسے میں ذاتی دوستیاں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں اور ریاست کے مفادات کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا رویہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں

اگر بھارت کو کوئی گھمنڈ ہے کہ وہ پاکستان کو گزند پہنچا سکتا ہے تو وہ یہ بات اپنے دل سے نکال دے ،پاکستانی اپنی زمین کی انچ انچ کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقا رعلی بھٹو ، آصف علی زرداری ہوں یا محترمہ بینظیر بھٹو پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے او ریہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ اگر پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم عدالت میں آ سکتے ہیں تو پھر سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے ۔

ایک وزیر اعظم کے خلاف الگ اور دوسرے وزیر اعظم کیلئے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک طرف وزیر اعظم پر غریب عوام کو درجہ چہارم کی نوکریاں دینے کا الزام ہے جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم کا کیا معاملہ ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن جو الزام لگایا جارہا ہے میں نے وہ جرم کیا ہی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…