جمعرات‬‮ ، 23 جولائی‬‮ 2026 

’’پاک افغان کشیدگی‘‘ اگرپاک فوج یہ کام نہ کرتی تو ناقابل تلافی نقصان ہوجاتا، کیاپاکستان کوچمن پرافغان حملے کا پہلے سے علم تھا؟۔۔دھماکہ خیز انکشافات

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انٹیلی جنس ایجنسیاں پہلے سے جانتی تھیں کہ افغانستان کی جانب سے گڑ بڑ ہونے والی ہے، پاک فوج کے اعلیٰ سطحی وفد ، آئی ایس چیف اور پاکستانی پارلیمانی وفد کے دورہ افغانستان کا جواب چمن کے سرحدی دیہات پر مردم شماری ٹیم پر حملہ کر کے دیا گیا، افغان کسے کے نہیں ہو سکتے، ان کی زندگی جنگ سے وابستہ ہو چکی،

سینئر کالم نگار و تجزیہ نگار ہارون الرشید کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ افغان اب کسے نہیں رہے، افغانستان قدیم قبائلی معاشرہ بن چکا نہ وہاں جدید سول سروس کا نـظام ہے اور نہ ہی جدید فوج ہے ۔ جنگ سے اب ان کا مفاد وابستہ ہو چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں گزشتہ 38سال سے جنگ جاری ہے اور جو چیز 40سال سے جو چیز طرز زندگی رہے تو پھر لوگ اسی سے اپنے مفادات وابستہ کر لیتے ہیں، زندگی پھر اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتا اگر وہاں امن آگیا تو پاکستان اور افغانستان ایک ہو جائیں گے کیونکہ امن ہی ہے جو مزید امن کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ بھارت کا افغانستان میں انٹرسٹ پاکستان کے خلاف اس کی سرزمین کو استعمال کرنے سے وابستہ ہے اور اسی مقصد کیلئے وہ وہاں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ میں پوری ذمہ داری سے یہ بات بتا رہا ہوں کہ ہماری انٹیلی جنس کو بہت دن پہلے سے اطلاع تھی کہ کوئی گڑ بـڑ ہونے والی ہے ۔ پاک فوج چمن میں افغان فورسز کے حملے سے قبل انـٹیلی جنس معلومات کی بنا پر پہلے سے تیار تھی ورنہ بہت زیادہ نقصان ہو سکتا تھا،

پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان چوکیاں تباہ ہونے سے افغان فورسز پسپا ہونے پر مجبور ہوئی۔ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ پرانی تلخیوں کو بھلا کر تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغانستان کے ساتھ سائنسی طرز سوچ کے تحت تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کیلئے ہی اس سے قبل بھی آئی ایس آئی کے سابق چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر

چارج لینے سے قبل افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ آئی ایس آئی کے موجودہ چیف نے چارج لینے کے بعد انہی دنوں افغانستان کا دورہ کیا ہے۔ آئی ایس آئی چیف کو دورہ افغانستان کے دوران افغان حکام نے مجرمان حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے افغان صدر کے دورہ پاکستان کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دبائو کی پالیسی رکھے مگر امن و امان کی خواہش ہی آخری خواہش ہونی چاہئے تاہم اس کیلئے دبائو کی ہی پالیسی کارگر ثابت ہو سکتی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…