منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

پاناما کیس میں شریف خاندان کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے موکل پر ہی بجلیاں گرادیں،حیرت انگیزانکشاف

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پاناما کیس میں شریف خاندان کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ عدالت کے روبرو قطری خط اپنے موکل کی ہدایت پر سر بمہر عدالت میں پیش کر دیا ‘پہلے سے طے شدہ مدت تک شریف خاندان کی وکالت کی جس کیلئے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی ۔اکرم شیخ  نے پاناما کیس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔

بدھ کے روزاپنے ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے اکر م شیخ نے کہا کہ پاناما کیس میں کلائنٹ کی ہدایت تھی کہ حمد بن جاسم نے اس شرط پر یہ خط دیا ہے کہ اسے کھولا نہیں جائے گا اور ریکارڈ کے ساتھ عدالت کی تحویل میں دیا جائے اس کے بعدیہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ اسے کیسے دیکھتی ہے۔ حسین نواز نے اپنی فیملی کی موجودگی میں مجھے یہ ہدایت دی اور میں نے اپنے کلائنٹ کی ہدایت کی روشنی میں خط عدالت کو پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طے شدہ مدت کیلئے شریف خاندان کی سپریم کورٹ میں وکالت کرنی تھی، 7 نومبر سے 9 دسمبر تک محدود مدت کیلئے شریف خاندان کی وکالت پہلے سے طے شدہ بات تھی ۔ انہوں نے مقدمے کیلئے کوئی فیس نہیں لی کیونکہ جب میں اپنے دوستوں سے فیس نہیں لیتا تو ایک ایسے شخص سے جو میرے بیٹے کا کلاس فیلو رہا ہے اس سے فیس کیسے لے سکتا ہوں۔اکرم شیخ نے پاناما کیس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔فرض کریں جے آئی ٹی کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ جائیدادوں کی خریدو فروخت میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے تومستقبل کے2 چیف جسٹس صاحبان کی بات کمپرو مائز ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…