بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

پاناما کیس میں شریف خاندان کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے موکل پر ہی بجلیاں گرادیں،حیرت انگیزانکشاف

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پاناما کیس میں شریف خاندان کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ عدالت کے روبرو قطری خط اپنے موکل کی ہدایت پر سر بمہر عدالت میں پیش کر دیا ‘پہلے سے طے شدہ مدت تک شریف خاندان کی وکالت کی جس کیلئے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی ۔اکرم شیخ  نے پاناما کیس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔

بدھ کے روزاپنے ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے اکر م شیخ نے کہا کہ پاناما کیس میں کلائنٹ کی ہدایت تھی کہ حمد بن جاسم نے اس شرط پر یہ خط دیا ہے کہ اسے کھولا نہیں جائے گا اور ریکارڈ کے ساتھ عدالت کی تحویل میں دیا جائے اس کے بعدیہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ اسے کیسے دیکھتی ہے۔ حسین نواز نے اپنی فیملی کی موجودگی میں مجھے یہ ہدایت دی اور میں نے اپنے کلائنٹ کی ہدایت کی روشنی میں خط عدالت کو پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طے شدہ مدت کیلئے شریف خاندان کی سپریم کورٹ میں وکالت کرنی تھی، 7 نومبر سے 9 دسمبر تک محدود مدت کیلئے شریف خاندان کی وکالت پہلے سے طے شدہ بات تھی ۔ انہوں نے مقدمے کیلئے کوئی فیس نہیں لی کیونکہ جب میں اپنے دوستوں سے فیس نہیں لیتا تو ایک ایسے شخص سے جو میرے بیٹے کا کلاس فیلو رہا ہے اس سے فیس کیسے لے سکتا ہوں۔اکرم شیخ نے پاناما کیس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔فرض کریں جے آئی ٹی کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ جائیدادوں کی خریدو فروخت میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے تومستقبل کے2 چیف جسٹس صاحبان کی بات کمپرو مائز ہوجائے گی۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…