بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینماکی کمائی سے 60 ملین ڈالر کی جائیداد،اہم سیاسی و مذہبی رہنما نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے آصف علی زرداری سے سوال کیا ہے کہ کیا 60 ملین ڈالر کے سوئس بینک اکاؤنٹس اور سرے محل اور دبئی کے محلات سینما کی کمائی سے کیسے بن سکتے ہیں ؟ عدالتی فیصلے کے بعد جس کے منہ میں جو آتا ہے چیخ وپکار کررہا ہے۔جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس وزیر اعظم کو عدالت نے

اہل قراردے دیا ہے اسے سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے مستعفی ہونے پر مجبور کرنا کہاں کی جمہوریت اور آئین کی بالادستی ہے۔ عدالت کے فیصلے کا احترام نہ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ آصف علی زرداری براہ راست عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ۔ عدالت اور جے آئی ٹی سے متعلقہ اداروں کودباؤ میں لانے کے لیے اپوزیشن نے انتشار کی سیاست شروع کردی۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اب جبکہ پانامہ کیس کے منطقی انجام کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے واضح لائن آف ایکشن دی جا چکی ہے اس لئے فریقین کی جانب سے اس فیصلہ کو اپنی جیت یا ہار سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے اور انصاف کے بول بالا کیلئے عدالتی احکام کی تعمیل میں جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس کے منہ میں جو آتا ہے بات کر دیتا ہے، چیخ و پکار سے نہیں بلکہ دلیل اور حقائق کو پیش نظر رکھ کر تجزیہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال حکومت کرنے والوں نے برطانیہ اور امریکہ میں جو جائیدادیں بنائیں عمران خان کو ان کے بارے میں بھی بلاول سے پوچھ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری الطاف حسین کے علاوہ وہ واحد سیاسی پارٹی لیڈر ہیں جن کے اثاثہ جات آج تک ڈیکلیئر نہیں ہوئے، اگر وہ اپنے اثاثہ جات کا اعلان کر دیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف تحریک کے نام پر دراصل سیاست کھیلی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…