منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

میرے بیٹے کے قتل کا معاملہ فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں،اقبال خان

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں تشدد کر کے قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد اقبال خان نے کہاہے کہ بیٹے کے قتل کا معاملہ فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔صوابی میں ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مقتول مشال خان کے والد نے کہا کہ ملک میں پہلے بھی کئی مواقع پر اہم مقدمات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے گئے

لیکن آج تک کسی ایک کمیشن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔جوڈیشل کمیشن اور از خود نوٹس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اگرحکومت سنجیدہ ہے تو اس معاملے کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ میرے بیٹے کا قتل دراصل دہشتگردی ہے اور جب ملک میں انسداد دہشتگردی عدالتیں موجود ہیں تو یہ کیس انہیں کیوں نہیں منتقل نہیں کیا جارہا جس کا سارا فائدہ فوج اور حکومت کو ہی ہو گا۔اگرحکومت حقیقت میں یہ کیس حل کرانا چاہتی ہے اور سچ سامنے لانا چاہتی ہے تو تمام تر ثبوت پہلے سے موجود ہیں کیونکہ پورے واقعے کی ویڈیو دستیاب ہے، صرف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔مشال خان کے والد نے مزید کہا کہ میرا بیٹا تو اب اس دنیا میں نہیں رہا مگریہ مسئلہ صرف ہمارا نہیں پورے ملک کے نوجوانوں اور بچوں کا معاملہ بن گیا ہے۔ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہیں کیا تو اس کا براہ راست فائدہ غیرریاستی عناصر کو ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ تاحال پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیس کی تفتیش اور پیشرفت سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔بعض تنظیموں کی طرف سے بیٹے کے قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش سے متعلق سوال پراقبال خان نے جواب دیا کہ ایسا ہردور میں ہوتا رہا ہے لیکن اگر یہ فائدہ اس طرح ہو کہ ملکی نظام میں کوئی بہتری آئے تو ہم کہیں گے کہ بیٹے کا خون رائیگاں نہیں گیا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی ڈسٹرکٹ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جمعرات کے روز مشتعل ہجوم نے  مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ تشدد کے اس واقعے میں دو طالبعلم زخمی بھی ہوئےتھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…