جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

میرے بیٹے کے قتل کا معاملہ فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں،اقبال خان

datetime 17  اپریل‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں تشدد کر کے قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد اقبال خان نے کہاہے کہ بیٹے کے قتل کا معاملہ فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔صوابی میں ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مقتول مشال خان کے والد نے کہا کہ ملک میں پہلے بھی کئی مواقع پر اہم مقدمات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے گئے

لیکن آج تک کسی ایک کمیشن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔جوڈیشل کمیشن اور از خود نوٹس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اگرحکومت سنجیدہ ہے تو اس معاملے کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ میرے بیٹے کا قتل دراصل دہشتگردی ہے اور جب ملک میں انسداد دہشتگردی عدالتیں موجود ہیں تو یہ کیس انہیں کیوں نہیں منتقل نہیں کیا جارہا جس کا سارا فائدہ فوج اور حکومت کو ہی ہو گا۔اگرحکومت حقیقت میں یہ کیس حل کرانا چاہتی ہے اور سچ سامنے لانا چاہتی ہے تو تمام تر ثبوت پہلے سے موجود ہیں کیونکہ پورے واقعے کی ویڈیو دستیاب ہے، صرف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔مشال خان کے والد نے مزید کہا کہ میرا بیٹا تو اب اس دنیا میں نہیں رہا مگریہ مسئلہ صرف ہمارا نہیں پورے ملک کے نوجوانوں اور بچوں کا معاملہ بن گیا ہے۔ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہیں کیا تو اس کا براہ راست فائدہ غیرریاستی عناصر کو ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ تاحال پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیس کی تفتیش اور پیشرفت سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔بعض تنظیموں کی طرف سے بیٹے کے قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش سے متعلق سوال پراقبال خان نے جواب دیا کہ ایسا ہردور میں ہوتا رہا ہے لیکن اگر یہ فائدہ اس طرح ہو کہ ملکی نظام میں کوئی بہتری آئے تو ہم کہیں گے کہ بیٹے کا خون رائیگاں نہیں گیا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی ڈسٹرکٹ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جمعرات کے روز مشتعل ہجوم نے  مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ تشدد کے اس واقعے میں دو طالبعلم زخمی بھی ہوئےتھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…