منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

مردان یونیورسٹی قتل،حقیقت سامنے آگئی،مشال خان کے موبائل اورسوشل میڈیا سے کیا برآمد ہوا؟پرویزخٹک تفصیلات سامنے لے آئے

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے کہاہے کہ مشال خان کے موبائل اورسوشل میڈیاسے توہین آمیزموادبرآمدنہیں ہوا، واقعے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کے احکامات جاری کردئے ہیں۔جمعہ کوخیبرپختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے عبدالولی خان یونیورسٹی میں مبینہ طورپر توہین رسالت کے مرتکب قرار دینے

کے بعد قتل ہونے والے طالبعلم مشال کی جانب ایوان کی توجہ دلائی اور کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے اقدام بربریت ہے ، جس انداز میں مشال نامی طالب علم کو قتل کیا گیا اور اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی اس اقدام سے ہم دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، ان کاکہنا تھا کہ ملک میں عدالت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں ہے ، اس واقع کے بعد ملک میں عوام کی مال و جان خطرے میں پڑگئے ہیں اسلئے حکومت کو چاہیے کہ اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے ، سرداد بابک نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس سانحہ پر کسی قسم کا بیان نہیں آیا ہے ،صوبے میں مذہبی جنونیت یہاں تک پہنچ گئی کہ اگرمشال نے توہین رسالت کی ہے وہ یقیناًقابل معافی نہیں ہے لیکن ان کو سزا عدالت دے گی ، جنہوں نے مشال کو قتل کیا ہے اب و ہ سامنے آجائے ، ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی مردان ڈویڑن نے قتل کے معاملے پر جو جواز پیش کیا ہے و ہ قابل قبول نہیں ہے ،ا س وقت ملک میں جو صورتحال جاری ہے و ہ انتہائی خطرناک ہے اور یہ صورتحال ملک کو اندھیروں میں دھکیل دے گی اس موقع پر نگہت اورکزئی کاکہنا تھا کہ مردان واقع کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھ اپولیس کی موجودگی میں مشال کی لاش کی بے حرمتی کی گئی ان پر پتھر او رلاٹیاں برسائی گئی ، یہ معاملہ پانچ دنوں سے جاری تھا اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس معاملے کو سنجید ہ نہیں لیا،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…