منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

امام کعبہ نے پاکستان کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کے سر فخرسے بلند کردیئے

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن)امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور تشدد کو اسلام کا نام دینے والے کسی طور پر درست نہیں ہو سکتے ،امت مسلمہ اس وقت ابتلاء اور آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے ،اتحاد و اتفاق وقت کی ضرورت بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی ،علمائے کرام نے ہمیشہ انسانی فلاح و بہبود کیلئے نمایاں کردار ادا کیا اب بھی وہ اپنا قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے عالم اسلام کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے

عملی جدوجہد کریں ،سعودی عرب نے ہمیشہ امت مسلمہ کو جوڑنے کی کوشش کی ،پاکستانیوں سے مجھے قلبی محبت ہے ،اپنے آپ کو علمائے کرام کے درمیان پا کر دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا محمد حنیف جالندھری کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفاق المدارس کے ایک بڑے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،امام کعبہ نے کہا کہ علمائے کرام ہی اصل قیادت ہیں ،موجودہ حالات میں علماء پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امت مسلمہ میں جوڑ پیدا کرنے کیلئے کردار ادا کریں ،انہوں نے کہا کہ ہماری نجات اسلام کی خوبصورت تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے،سعودی عرب میں خوشحالی اور فراوانی تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کے احکامات کے نفاذ کی وجہ سے ہے ،انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی والا مذہب ہے ،دہشت گردی ،بد امنی اور تشدد کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں ،امام کعبہ نے اس موقع پر پاکستان میں دینی مدارس کی خدمات کا اعتراف کیا، وفاق المدارس اور علمائے کرام کیلئے کلمات تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے فروغ اور اسلام کی نشرو اشاعت کیلئے پاکستان کے دینی اداروں کی خدمات قابل قدر ہیں ،اس موقع پر وفاق المدارس کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہاکہ علمائے کرام نے اتفاق و اتحاد کیلئے ہمیشہ کردار ادا کیا اور

اب بھی کرتے رہیں گے ،امت مسلمہ کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے سعودی عرب کی خدمات اور قائدانہ کردار کا اعتراف کرتے ہیں اور مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ،حرمین شریفین کے تحفظ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلقات اور رابطوں کو مزید وسعت دینی چاہئے ،اس سلسلے میں سعودی عرب کی یونیورسٹوں اور دینی درسگاہوں سے استفادے کیلئے علماء و طلباء کے وفود کا تبادلہ ہونا چاہیئے ،امام کعبہ نے علمائے کرام کی اس تجویز سے اتفاق کیااور وفاق المدارس کی خدمات کو زبر دست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود بھی موجود تھے ،وفد میں مولانا قاضی عبدالرشید ،مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ،مولانا زبیر احمد صدیقی ،مولانا سعید یوسف ،مولانا ظہور احمد علوی ،مولانا نذیر فاروقی ،مولانا احمد حنیف ،مولانامفتی اویس عزیز،مولانا عبدالرؤف محمدی ،مولانا شفیق الرحمن ، مولانا ادریس حقانی ،مفتی شکیل احمداور دیگر شامل تھے ۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…