جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ٹھیکہ دیدیاگیامگر وہ بھی آدھا،چینی کمپنی کراچی میں اب کیا کرے گی؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 31  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(آئی این پی)کراچی سے کچرا اٹھانے کا کام شروع کرنے والی چینی کمپنی کی ذمے داریوں میں کچرے کوٹھکانے لگانا شامل نہیں، اس کام کے لیے حکومت سندھ الگ سے کسی دوسری کمپنی کو ٹھیکہ دے گی جس کے لیے5اپریل کو انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق حکومت سندھ کو کچرے کو لینڈفل سائٹ تک پہنچانے کے لیے کسی کمپنی کو تقریباً 6 سو روپے فی ٹن کے حساب سے ادائیگی کرنا ہوگی، حکومت سندھ نے جس چینی کمپنی کو کراچی سے کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ دیااس کا کام صرف گھروں اور

علاقوں سے کچرا اٹھا کر شہر کے اندر قائم عارضی گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن تک پہنچانا ہے۔ادھر چینی کمپنی نے ابتدائی طور پر کچرے اٹھانے کا کام کراچی کے ایک ضلع ساؤتھ سے شروع کیا ہے، چینی کمپنی کو اپریل سے کراچی شرقی میں بھی کام شروع کرنا ہے، چینی کمپنی کو دیے گئے ٹھیکے میں کچرے کو لینڈفل سائٹ تک پہنچانا شامل نہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ اس کام کے لیے 5 اپریل کو الگ سے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی نے روزنامہ ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی کہ کچرے کو لینڈفل سائٹ تک پہنچانا چینی کمپنی کی ذمے داری نہیں، اس کا کام کچرے کو غیر رسمی طور پر قائم شہر کے گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن تک پہنچانا ہے جو ملیر ندی، دھوبی گھاٹ، عیسیٰ نگری کے قریب لیاری ایکسپریس وے اور شہر کے دیگر مقامات پر ہیں، کراچی میں2مقامات جام چکرو اور گووند پارک میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے5، 5 سو ایکڑ پر مشتمل لینڈفل سائٹ موجود ہیں جنھیں باضابطہ طور پر بنایا جائے گا، اس ضمن میں پی سی ون منظور ہوچکی ہے۔کراچی میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ 12 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جسے چھوٹے ٹرکس کے ذریعے پہلے گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن تک پہنچایا جائے گا اور وہاں سے اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے بڑے ٹرکس اور ٹرالرز کے ذریعے لینڈفل

سائٹس تک پہنچایا جائے گا۔اے ڈی سجنانی کے مطابق چینی کمپنی کے کچرا اٹھانے کیلیے سالانہ ایک ارب روپے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، اس وقت یہ کمپنی ضلع ساؤتھ سے تقریباً ایک ہزار ٹن کچرا اٹھا رہی ہے، واضح رہے کہ سندھ میں پینے کے صاف پانی کے حوالے دائر درخواست پر سپریم کورٹ کے جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں قائم بینچ کے حالیہ فیصلے میں بھی چینی کمپنی کو کچرا اٹھانے کے لیے دیے گئے ٹھیکے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت سندھ چینی کمپنی کو 29 ڈالر فی من کچرا اٹھانے پر ادا کر رہی ہے، ایک ٹرک 12 سے 15 ٹن کچرا اٹھاتا ہے، اس حساب سے ایک ٹرک کے 435 ڈالر بنتے ہے اور یہ رقم پاکستانی کرنسی میں فی ٹرک 46 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…