منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پانامہ کیس فیصلہ، وزیراعظم نواز شریف نے پیش بندی کر لی، وزیروں کو اہم حکم جاری

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز لیکس سکینڈل میں طارق فاطمی نے قربانی کا بکرا بننے سے انکار کر دیا، پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس صاحبان کسی دبائو میں نہیں، وزیراعظم نواز شریف نے بیگم کلثوم نواز کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے ملک سے باہر جانے اور استعفیٰ پیش کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا نجی ٹی وی پروگرام میں

انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈان نیوز لیکس سکینڈل میں طارق فاطمی نے قربانی کا بکرا بننے سے انکار کر دیا ہے انہیں خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے الزامات قبول کر لئے تو ان پر آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلے گا جس کی وجہ سے انہوں نے اس تمام معاملے سے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے جبکہ حکومت اس وقت شدید مشکلات میں ہے اور اسے نیوز لیکس سکینڈل میں بلی کا بکرا نہیں مل رہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف نے بیگم کلثوم نواز کے مشورے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے شوہر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو ملک سے باہر چلے جانے اور وہاں سے استعفیٰ بھیج دینے کا کہا تھا ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ کے جسٹس صاحبان پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ، انہوں نے کہا کہ جب شام میں بشار الاسد کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تو وہ جنوبی شام سے شروع ہوئی جس میں سب سے پہلے وہاں کے عوام نے علاقے کے مجسٹریٹس اور ججوں کو گولی ماری کیونکہ ان کے نزدیک یہ لوگ انصاف فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے جو کہ وہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ کے حالات میں تبدیلی آرہی ہے،

افغانستان کا بارڈر بھی متحرک ہو چکا ہے جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں کثیر الملکی بحری مشقیں اور میری ٹائم کانفرنس وغیرہ خطے میں تبدیلی کا عندیہ دے رہی ہیں جبکہ ہمارے حکمرانوں کو اس کی فکر نہیں وزیراعظم حیدر آباد فتح کرنا چاہ رہے ہیں ۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ نے فریقین کو پورا موقع دیا جبکہ حکمران خاندان کی بھی ایک ایک بات سنی

اور آخر میں نکلا کیا ، قطری خط!۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو پانامہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے سگنل دیدیا گیا ہے وہ اب یہاں رہ کر فیصلہ سنتے ہیں یا باہر جا کر استعفیٰ بھیجتے ہیں یا اسمبلیاں توڑتے ہیں اور کمیشن بننے پر اس کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور اپنے خاندان کو پیش کرتے ہیں یہ ان پر ہے۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مریم نواز کے زیر کفالت ہونے یا نہ ہونے کی بحث کی لپیٹ میں بلاول بھٹو زرداری بھی آچکے ہیں جبکہ نواز شریف کی مرضی ملک میں رہنے اور تمام حالات کا مقابلہ کرنے کی ہے اور انہوں نے وزیروں تک کو ملک سے باہر جانے سے منع کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…