پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

سود کے حق میں اپیل اور جمعہ کی چھٹی کا خاتمہ ،حکومت کے بارے میں بڑی پیش گوئی کردی گئی

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی ) سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جمعہ کی چھٹی ختم ہونے سے کروڑوں لوگ چاہتے ہوئے بھی بروقت جمعہ ادا کرنے سے محروم رہتے ہیں جس کاساراوبال حکمرانوں کی گردن پر ہے، سود کے حق میں اپیل اور جمعہ کی چھٹی کا خاتمہ موجودہ حکمرانوں کے دوایسے فیصلے ہیں جو دنیا و آخرت میں سراسر خسارے کا سودا ہے مگر حکمران اللہ سے ڈرنے اور توبہ کرنے کی بجائے مغرب کی خوشنوددی پر خوش ہیں ۔

اتوار کی چھٹی سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ موجودہ دور حکومت میں اندرونی اور بیرونی قرضوں میں بے انتہااضافہ ہوا ہے ۔حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور مغرب کی تابعداری کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔اپریل میں سود کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک چلائیں گے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکمران اللہ کے غضب سے ڈریں اور اپنا قبلہ واشنگٹن اور مغرب کی بجائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بنائیں ۔حکمران اللہ کے احکامات پر کاربند ہوجائیں تو ان کی برکات سے بہت جلد ہماری معیشت ٹھیک ہوسکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے سعودی عرب کے ایک ہفتہ کے دورے کے بعد وطن واپسی پر کارکنوں سے گفتگو اور جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دشمن ہمیں دین اور اسلامی شعائر سے دور کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہے۔ دشمن کی مکاریوں اور سازشوں کا ادراک کرنے کی بجائے ہمارے حکمران مغرب کے آلہ کار اور مغربی تہذیب کے دلدادہ بنے ہوئے ہیں۔حکمرانوں نے اتوار کی چھٹی کرتے وقت بلند و بانگ دعوے کئے تھے کہ ہم عالمی سطح پر ہونے والی معاشی سرگرمیوں میں براہ راست شریک ہوجائیں گے اور ہماری تجارت اور معیشت ترقی کرے گی مگر جس دن سے جمعہ کی چھٹی ختم ہوئی ہے بے برکتی اور نحوست نے ملک کو گھیرے میں لے لیا ہے

اور ملکی معیشت کی کشتی مسلسل ڈوبتی جارہی ہے ۔تجارتی خسارا بڑھتے بڑھتے کئی سو ارب تک پہنچ گیا ہے ،صنعتیں بند اور زراعت ڈگمگا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سود کواللہ اوراللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے ساتھ جنگ قرار دیاہے مگر حکمران قرآن کے واضح حکم کے باوجود اس جنگ میں کودپڑے ہیں جس کا انجام بدترین شکست اور ہزیمت کے سوا کچھ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکمران اب بھی توبہ کرلیں اور اس کے ساتھ جنگ سے باز آجائیں ۔جمعہ کی چھٹی فوری بحال کریں اور سود کے حق میں سپریم کورٹ میں کی گئی اپیل کو واپس لیکر ملک میں بلاسودی معیشت کا آغاز کردیں۔معیشت دان یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ بلاسود بینکاری چل سکتی ہے ۔ آج مغرب بھی سود کی لعنت سے نالاں ہے اور اس سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہاہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے اپنے کامیاب دورہ سعودی عرب پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ اس دورہ کے دوران انہوں نے رابطہ عالم اسلامی کی سہ روزہ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ ،جدہ ،ریاض ،مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور دمام میں پاکستانی کمیونٹی کے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا اور انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان بہت جلد کرپٹ اور بدیانت مافیا سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…