پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کو قطری خط کے مشورے دینے والوں نے مروایا ،پانامالیکس کیس کافیصلہ کس کے حق میں آئے گا؟سینئرسیاستدان نے مارچ کامہینہ اہم قراردیدیا

datetime 16  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ عوام کے حق میں آرہا ہے ،ہم سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کریں گے۔ جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ مارچ ملک کیلئے اہم مہینہ ہے کیو نکہ رواں ماہ ہی پانامہ کیس کا فیصلہ آئے گا جو عوام کے حق میں آرہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاناما کیس کے حوالے سے سپریم

کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کریں گے ۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ آرٹیکل 62اور 63پر تاریخی فیصلہ آنے والا ہے ۔ایک سوال پر شیخ رشید احمد نے کہا کہ لاہور میں دفتر کھولنا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ 20کروڑ عوام کے دلوں پر راج کر چکا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ شریف اینڈ کمپنی نے ملک و قوم کو لوٹ کھایا ہے اور اب بہت جلد قوم کی ان لٹیروں سے نجات ملنے والی ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نواز شریف کو قطرہ خط کے مشورے نے مروایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کا مہینہ ملک کے لئے انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک کی تاریخ کا اہم ترین عدالتی فیصلہ متوقع ہے جس سے ملکی حالات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے تاہم یہ بات عیاں ہوگئی کہ پانامہ کیس کے مقدمے میں نواز شریف کو قطری خط کے مشورے دینے والوں نے مروایا اور اب بھی تباہ کن مشورے دے رہے ہیں کہ کیس کا فیصلہ نواز شریف کے ہی حق میںآئے گا لیکن یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کیونکہ کیس کا فیصلہ شریف خاندان کے حق میں نہیں بلکہ عوام کے حق میں آئے جسے ہم قبول کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ کیس کا فیصلہ کب آئے گا اس لئے اب اسٹیپ ڈائون اور عوام سے لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں لیکن پانامہ کیس میں آئین پاکستان کے آرٹیکل

62 اور 63 یعنی صادق اور امین کے معاملے پر نواز شریف کو منہ کی کھانا پڑے گی جس سے ان کی سیاسی زندگی کا بوریا بستر ہی گول ہو جائے گا جو یقینی طور پر قوم کے حق میں بہتر ہو گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…