پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پانامہ کیس ،عمران خان نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی طرح پانامہ کیس میں بھی عدالت کا فیصلہ قبول کریں گے ‘ ہم عدالت کے خلاف نہیں جائیں گے ‘ وزیر اعظم ترکی میں بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ‘ افغانستان سے فوجی انخلاء پر نواز شریف کے پاس دہشت گردی کے خاتمے کا بہترین موقع تھا ‘ ویر اعظم بننے کا مطلب یہ نہیں کہ لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا جائے ،

نواز شریف کو بھی پتہ ہے کہ کرپشن کے الزامات سچ ہیں ‘ نواز شریف آئی سی آئی جے پر قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کرتے۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ نواز شریف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ پانامہ کا معاملہ عدالت تک جائے گا۔ پارلیمنٹ میں ایک اور عدالت میں دوسری کہانی بیان کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو عہدے پر رہنے کا حق نہیں ۔ متضاد بیانات کے بعد وزیر اعظم نواز شریف صادق اور امین رہ گئے ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے ایک فرض ادا کیا اب عدالت فیصلہ کرے گی۔ نواز شریف آئی سی آئی جے پر قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کرتے۔ نواز شریف کو بھی پتہ ہے کہ کرپشن کے الزامات سچ ہیں۔ انہوں نے 2016ء سے پہلے بیرون ملک پراپرٹی کا اعتراف ہی نہیں کیا۔ ٹی وی انٹرویو میں مریم نواز نے بیرون ملک پراپرتی سے انکار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی طرح پانامہ کیس میں بھی عدالت کا فیصلہ قبول کریں گے۔ ہم عدالت کے خلاف نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم بننے کا مطلب یہ نہیں کہ لوٹ مار کا بازارگرم کر دیا جائے۔ نواز شریف نے عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ قطری ان کے بزنس پارٹنر ہیں۔ جمہوریت کو چاہے مرضی کرنے کا نام نہیں ہے۔ وزارت عظمیٰ کرپشن کی اجازت نہیں دیتی ۔ کوئی بچہ بھی قطری کے خط کو درست تسلیم نہیں کرتے۔

عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم ترکی میں بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ افغانستان سے فوجی انخلاء پر نواز شریف کے پاس دہشت گردی کے خاتمے کا بہترین موقع تھا۔ فاٹا میں لوگوں کو رن پاور کے معاملات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قانون سازی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…