پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

چارسدہ دھماکے حساس اداروں نے پہلے ہی کیا کام کر دیا تھا؟

datetime 21  فروری‬‮  2017 |

چارسدہ (این این آئی)تنگی کچہر ی میں دھماکے کاحساس اداروں نے پہلے سے ہی الرٹ جاری کیا تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاقوںپشاور،چارسدہ،نوشہرہ،مردان میں دہشتگردوں کے داخل ہونے کی اطلاعات تھی اور حسا س اداروں نے سکیورٹی اداروں کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشتگرد حملہ کرسکتے ہیں کیونکہ فاٹا اور مہمند ایجنسی قریب ہے جس کی وجہ سے دہشتگرد پاکستان

میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع چار سدہ کی تحصیل تنگی میں کچہری کے گیٹ کے قریب خود کش دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میںپولیس اہلکاروں سمیت5افراد جاں بحق اور20 زخمی ہوگئے ٗ ایک خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا ٗ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دو حملہ آور بھی مارے گئے ۔منگل کو ڈی پی اوچارسدہ سہیل خالد نے بتایا کہ تین دہشت گردوں نے کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی ٗ ایک دہشت گرد نے خود کو کچہری کے گیٹ پر دھماکے سے اڑادیا انہوںنے بتایا کہ دوسرے دہشت گردوں نے کچہری میں داخل ہوکر فائرنگ کی ٗفائرنگ کے تبادلے میں تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کچہری میں موجود 5شہری جاں بحق اور20زخمی ہوگئے، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تنگی منتقل کردیا گیاہے میڈیا رپورٹ کے مطابق حملے سے قبل حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور دستی بم بھی پھینکے۔ ضلعی ناظم چارسدہ فہد خان نے بھی تصدیق کی کہ حملہ آور 3 تھے جنھیں ہلاک کردیا گیا ٗ2 حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ تینوں حملہ

آوروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں تاہم ڈی آئی جی مردان نے ایک خودکش دھماکے کی تصدیق کی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چار سدہ پولیس اور مختلف مقامات سے پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور کچہری کو گھیرے میں لے لیا ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ مہمند ایجنسی سے حملہ آوروں کے آنے کی اطلاع تھی ۔ دھماکوں کے بعدلیڈی ریڈنگ

ہسپتال میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کو الرٹ کردیا ۔دوسری جانب عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے حملہ آوروں کی لاشیں ٗبارودی مواد اور اسلحہ سڑک کنارے پڑا دیکھا۔محمد شاہ باز نامی ایک علاقہ مکین نے بتایا کہ وہ کچہری کے اندر موجود تھے ٗجب انھوں نے خودکش بمباروں کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔انھوں نے بتایا کہ میں کینٹین کی طرف بھاگا اور اپنی جان بچانے کیلئے دیوار سے چھلانگ لگا دی۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…