پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

شہداء کے جسمانی اعضاء کی بے حرمتی،سندھ حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی)شہداء کے جسمانی اعضاء کی بے حرمتی،سندھ حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا،معمول کے مطابق نوٹس اورتحقیقات کا حکم،کارروائی لمبی چلے گی،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سیہون شریف میں دھماکے کے شہداء کے جسمانی اعضاء کو پھینکنے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر حیدرآباد کو معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ہفتہ کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سیہون شریف میں دھماکے

کے شہداء کے جسمانی اعضاء کو پھینکنے کا نوٹس لے لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر حیدرآباد کو معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جس نے ایسی سنگین غلطی کی اس کو نہیں بخشا جائے گا،میرا دل بہت دکھی ہے۔۔انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہداء کے جسمانی اعضاء جمع کرکے فوری دفن کیے جائیں۔واضح رہے کہ سیہون شریف میں دھماکے کے شہداء کے جسمانی اعضاء دفنانے کے بجائے گندگی میں پھینک دیئے گئے،علاقے میں تعفن کے باعث لوگ کچرے کے گرد جمع ہوگئے،شہداء کے اعضاء کچرے میں دیکھ کر لوگوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی،علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شہداء کے اعضاء کی تدفین شروع کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق سیہون شریف میں دھماکے کے شہداء کے اعضاء دفنانے کے بجائے گندگی میں پھینک دیئے گئے جس کے باعث علاقے میں تعفن پھیل گیا جبکہ شہداء کے اعضاء کچرے میں دیکھ کر لوگوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ڈی سی جامشورو منور مہسر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا اس پر مجھے بڑا افسوس ہے،یہ اوقاف کا معاملہ ہے،اس سے کوئی پوچھ نہیں رہا،صفائی کے وقت اعضاء وغیرہ ہسپتال پہنچا دیئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ میری نگرانی میں ہی دربار کی صفائی ہوئی ہے،انسانی اعضاء کچرے میں نہیں پھینکے۔میڈیا میں معاملہ آنے کے بعد انتظامیہ

حرکت میں آگئی اور گندگی سے شہداء کے جسمانی اعضاء اٹھا کر لے گئی جبکہ کچھ اعضاء کی علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تدفین کردی۔۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…