پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

حافظ محمد سعید کی نظر بندی ،لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 8  فروری‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائی کورٹ نے جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کرنے سے متعلق مقامی شہری کی طر ف سے دائرکردہ درخواست اس بنیاد پر خارج کر دی ہے کہ یہ متاثرہ فریق کی طرف سے دائر نہیں کی گئی جبکہ دوسری جانب حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے بھی عدالت کو بتایاکہ اس درخواست کا حافظ محمد سعید سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اپنی درخواست خود چیلنج کریں گے۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت میں سرفراز حسین نامی ایک شہری نے موقف اختیار کیا کہ اس نے حافظ محمد سعید کی نظربندی کے حوالہ سے رجسٹرار ہائی کورٹ کو ایک درخواست جمع کروائی جس پر انہوں نے اس کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنیاد پر مذکورہ درخواست پر ناقابل سماعت ہونے کا اعتراض لگایا ہے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس اعتراض کو ختم کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کے لئے میری اس درخواست کو منظور کیا جائے۔اسی کیس میں حافظ محمد سعید کے وکلاء بھی اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پیش ہوئے اور انہوں نے واضح طورپر عدالت کو آگاہ کیا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کا دائر کی گئی اس درخواست اور اعتراض کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے وزارت داخلہ پنجاب سے اپنی نظربندی ختم کرنے کے حوالہ سے رجوع کیا ہے اور یہ کہ حافظ محمد سعید خود لاہور ہائی کورٹ میں اپنی نظربندی کو چیلنج کریں گے اس لئے آج جس کیس کی سماعت کی جارہی ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی اس وضاحت پر لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے گئے اعتراض کو برقرار رکھا اور مقامی شہری کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنیاد پر اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ۔

دریں اثناء حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ کی نظربندی آئینی اور قانونی لحاظ سے کسی صورت درست نہیں ہے اور پاکستان کے کسی آزاد شہری کو بلاوجہ نظربند نہیں رکھا جاسکتا تاہم حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کی نظربندی کے حکم نامہ کو وہ خود لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…