پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

حافظ محمد سعید کی نظر بندی ،لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 8  فروری‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائی کورٹ نے جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کرنے سے متعلق مقامی شہری کی طر ف سے دائرکردہ درخواست اس بنیاد پر خارج کر دی ہے کہ یہ متاثرہ فریق کی طرف سے دائر نہیں کی گئی جبکہ دوسری جانب حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے بھی عدالت کو بتایاکہ اس درخواست کا حافظ محمد سعید سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اپنی درخواست خود چیلنج کریں گے۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت میں سرفراز حسین نامی ایک شہری نے موقف اختیار کیا کہ اس نے حافظ محمد سعید کی نظربندی کے حوالہ سے رجسٹرار ہائی کورٹ کو ایک درخواست جمع کروائی جس پر انہوں نے اس کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنیاد پر مذکورہ درخواست پر ناقابل سماعت ہونے کا اعتراض لگایا ہے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس اعتراض کو ختم کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کے لئے میری اس درخواست کو منظور کیا جائے۔اسی کیس میں حافظ محمد سعید کے وکلاء بھی اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پیش ہوئے اور انہوں نے واضح طورپر عدالت کو آگاہ کیا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کا دائر کی گئی اس درخواست اور اعتراض کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے وزارت داخلہ پنجاب سے اپنی نظربندی ختم کرنے کے حوالہ سے رجوع کیا ہے اور یہ کہ حافظ محمد سعید خود لاہور ہائی کورٹ میں اپنی نظربندی کو چیلنج کریں گے اس لئے آج جس کیس کی سماعت کی جارہی ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی اس وضاحت پر لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے گئے اعتراض کو برقرار رکھا اور مقامی شہری کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنیاد پر اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ۔

دریں اثناء حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ کی نظربندی آئینی اور قانونی لحاظ سے کسی صورت درست نہیں ہے اور پاکستان کے کسی آزاد شہری کو بلاوجہ نظربند نہیں رکھا جاسکتا تاہم حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کی نظربندی کے حکم نامہ کو وہ خود لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…