جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

حافظ محمد سعید کی نظر بندی ،لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 8  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائی کورٹ نے جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کرنے سے متعلق مقامی شہری کی طر ف سے دائرکردہ درخواست اس بنیاد پر خارج کر دی ہے کہ یہ متاثرہ فریق کی طرف سے دائر نہیں کی گئی جبکہ دوسری جانب حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے بھی عدالت کو بتایاکہ اس درخواست کا حافظ محمد سعید سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اپنی درخواست خود چیلنج کریں گے۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت میں سرفراز حسین نامی ایک شہری نے موقف اختیار کیا کہ اس نے حافظ محمد سعید کی نظربندی کے حوالہ سے رجسٹرار ہائی کورٹ کو ایک درخواست جمع کروائی جس پر انہوں نے اس کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنیاد پر مذکورہ درخواست پر ناقابل سماعت ہونے کا اعتراض لگایا ہے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس اعتراض کو ختم کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کے لئے میری اس درخواست کو منظور کیا جائے۔اسی کیس میں حافظ محمد سعید کے وکلاء بھی اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پیش ہوئے اور انہوں نے واضح طورپر عدالت کو آگاہ کیا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کا دائر کی گئی اس درخواست اور اعتراض کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے وزارت داخلہ پنجاب سے اپنی نظربندی ختم کرنے کے حوالہ سے رجوع کیا ہے اور یہ کہ حافظ محمد سعید خود لاہور ہائی کورٹ میں اپنی نظربندی کو چیلنج کریں گے اس لئے آج جس کیس کی سماعت کی جارہی ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی اس وضاحت پر لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے گئے اعتراض کو برقرار رکھا اور مقامی شہری کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنیاد پر اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ۔

دریں اثناء حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ کی نظربندی آئینی اور قانونی لحاظ سے کسی صورت درست نہیں ہے اور پاکستان کے کسی آزاد شہری کو بلاوجہ نظربند نہیں رکھا جاسکتا تاہم حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کی نظربندی کے حکم نامہ کو وہ خود لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…