پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

پاکستانی عوام تیاری کر لیں ، قطر نے شاندار اعلان کر دیا

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں تعینات قطر کے سفیر سقر بن مبارک المنصوری نے کہا ہے کہ قطرکی حکومت کا پانامہ کیس میں پیش کیے گئے خطوط سے کوئی تعلق نہیں ، قطری شہزاد ہ حمد بن جاسم کے خطوط ان کے ذاتی ہو سکتے ہیں ، پانامہ کیس پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ،ہم پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے،پاکستان اور قطر کے درمیان بہتر اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید

فروغ پا رہے ہیں ،2016 میں وزیر اعظم نوازشریف کے دورہ سے پاکستان اور قطر کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ ملا ، قطر بلوچستان سمیت پورے پاکستان کی مدد میں دلچسپی رکھتا ہے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں دی گئیں ایمبولینسزامیر قطر کی جانب سے صوبے کے عوام کے لئے صحت کی سہولیات کا تحفہ ہے، پاکستان نے جی سی سی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے قطر سے تعاون مانگا ہے ، اس معاملے میں بھی قطر پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، پاکستان کے ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کام کررہے ہیں ، ایک لاکھ پاکستانیوں کو قطر بھیجاجائیگا ۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ قطری حکومت کی جانب سے ایمبولینسز بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو تحفے میں دی گئی ہیں یہ امیر قطر کی طرف سے بلوچستان کے عوام کے لئے تحفہ ہیں ۔ جو صحت کی سہولیات کے لئے ہیں ۔ ہمارے پاس پاکستانی عوام کی فلاح کے لئے اور بھی منصوبے ہیں ۔ ہم بلوچستان کی مقامی حکومت سے رابطہ کرکے ان کی باقی ضروریات کے بارے میں بھی پوچھیں گے تاکہ یہاں کے تعلیم، صحت اور صاف پانی سے جڑے مسائل حل ہو سکیں ۔ قطر کے سفیر نے کہا کہ قطر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی مدد میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ کئی دفعہ ہم براہ راست اور کئی دفعہ رفاہی تنظیموں کے ذریعے یہاں کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔گزشتہ ہم نے بھکر میں ایک

ہسپتال کا بھی افتتاح کیا جس کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب بھی شریک ہوئے تھے ۔ قطر چیرٹی یہاں پر لمبے عرصے سے کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات ہیں جو پچھلے 60,50 سال سے قائم ہیں ۔ ہمارے امیر نے 2015 میں پاکستان کا دورہ کیا اور پھر وزیر اعظم پاکستان نے 2016 میں قطر کا دورہ کیا ان دوروں سے ہمارے تعلقات مزید آگے بڑھے ہم نے دو اہم معاہدوں پر

دستخط کیے تھے جس میں ایک دوہا میں ہوا تھا اور دوسرا ستمبر میں ہوا تھا ۔ ان معاہدوں میں پاکستان کو پانچ ملین ٹن ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ بھی شامل تھا ۔ سقر بن مبارک نے کہا کہ ہمارے درمیان عسکری تعلقات بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا تھا قطر نے پاکستان سے 8 سپر مشاق طیارے حاصل کیے ۔ ہمارے طالبعلم کراچی اور اسلام آباد میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ ہمارے تعلقات زراعت کے شعبے میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں ۔ قطری

سفیر نے کہا کہ قطر کی تکافل کمپنی بھی پاکستان میں انشورنس کا کام کر رہی ہے ۔ یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے کہ ہمارے گہرے دیرینہ تعلقات ہیں اور پاکستان ہمارا برادر ملک ہے ۔ پاکستان میں توانائی کی بہت ضرورت ہے جس پر ہم خصوصی توجہ دے رہے ہیں اب دونوں ممالک کے عہدے داران آپس میں پاور اور انرجی کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاور جنریشن ایل این جی کے ذریعے کی جائے گی ۔ امیر قطر نے

ہمیں حکم دیا ہے کہ پاکستانی مزدوروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تقریباً ایک لاکھ افراد کو قطر بھیجا جائے گا جس میں ڈاکٹرز ، نرسز اور مزدور شامل ہیں ۔ آئندہ ورلڈ کپ ہم نے کروانا ہے ۔ اس کے لئے بھی ہمیں پاکستان اور اس کے تجربات کی ضرورت ہے ۔ سقر بن مبارک نے کہا کہ پاکستان نے جی سی سی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے قطر سے تعاون مانگا ہے ، اس معاملے میں بھی قطر پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے

۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اس میں ہمارے ملک کے لئے بھی بہت سے مواقع موجود ہیں ۔ قطری سفیر نے کہا کہ قطر 1972 سے او آئی سی کا ممبر ہے اور یہ باقی ممالک کے ساتھ مل کر امت اوراسلام کے اتحاد کے لئے بھی کام کررہا ہے ۔ مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے بھی قطر او آئی سی کی قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو یو این کی

قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی مسئلہ فلسطین کو سپورٹ کر رہا ہے ۔ بین الاقوامی فورم اور ملاقاتوں میں بھی پاکستان اور فلسطین کے تعلقات آپس میں بڑھ رہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغان طالبان اورحکومت کو بھی مذاکرات کے لئے تیار کیا جائے اور مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ افغانی بھائی اپنا ملک تعمیر کر سکیں ۔ ہماری حکومت افغان مسئلے کے حل کے لئے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے اس سلسلے میں ہم پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہیں ۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…