پشاور(این این آئی) اشیاء کی پہلی بم ناکارہ بنانے والی خاتون رافعہ قسیم بیگ کی جنون اورجذبے نے خیبرپختونخوا کے بیٹیوں کوجگا دیا،رافعہ نے جس عزم کااظہارکیا تھا وہ اپنی تکمیل کی جانب گامزن ہے،اورمزید گیارہ خواتین نے بم ناکارہ بنانے کی تربیت مکمل کرلی ۔
خیبرپختونخوا کی خواتین میں بم ناکارہ بنانے کی تربیت حاصل کرنیکا رجحان بڑھنے لگا۔تین بہنوں سمیت ایلیٹ فورس کی گیارہ خواتین اہلکاروں نے بم ناکارہ بنانے کی تربیت مکمل کرلی۔نوشہرہ پولیس اسکول آف ایکسپلوسیو ہینڈلنگ میں گیارہ خواتین سمیت اسپیشل یونٹ کے چوبیس اہلکاروں نے بم ناکارہ بنانے کی بنیادی تربیت مکمل کرلی۔ ٹریننگ حاصل کرنے والوں میں کرک سے تعلق رکھنے والی تین بہنیں بھی شامل ہیں۔ اہلکاروں کو ایک ہفتے کی بنیادی تربیت کے دوران بم کی شناخت اور ناکارہ بنانے کی تربیت دی گئی ہے۔ خواتین اہلکاروں کاکہنا تھا کہ رافعہ قسیم بیگ کی ہمت اورجذبے کودیکھ کر ہم نے بھی بم ناکارہ بنانے کی تربیت حاصل کرنے کافیصلہ کیا اوراپنے سینئر کودرخواست دیکر انہوں نے ہمیں موقع دیا۔انکاکہنا تھا کہ ہم خواتین بھی امن وآمان کی برقراررکھنے کیلئے اپنی جدوجہد کریں گے ہم بھی مردوں سے کم نہیں۔نوشہرہ کے سکول آف ایکسپلوسیو ہنڈلنگ میں سپیشل کامبیٹ یونٹ کے 13 جبکہ ایلیٹ فورس کی 11خواتین نے کامیابی سے بم ناکارہ بنانے کی بنیادی تربیت مکمل کر دی ہے۔ اہلکاروں کو ایک ہفتے کی بنیادی تربیت کے دوران بم کی شناخت اور ناکارہ بنانے کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ سکول پرنسپل کے بقول دیگر صوبوں کی خواتین بھی اگر ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے آئے تو انہیں بھی تربیت دی جائے گی۔
نوشہرہ کے اسکول اف ایکسپلوسیو ہینڈلنگ میں کرک سے تعلق رکھنے والی تین بہنوں پری گل،سمینہ اور رخسانہ نے بھی کامیابی کے ساتھ بم ناکارہ بنانے کی بنیادی تربیت مکمل کرلی۔بڑی بہن پری گل کے بقول انکے والد معذور ہیں اور نامسائد حالات کے باوجود بھی تعلیم حاصل کرکے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی۔



















































