ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

’’جو کام شہزادہ سلیم نے انار کلی کیلئے نہیں کیا وہ قطری شہزادے نے کر دکھایا‘‘

datetime 27  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدنے کہا ہے کہ نواز شریف کو بچانے کیلئے جتنے خط قطریوں نے لکھے اتنے تو شہزادہ سلیم نے انارکلی کو بھی نہیں لکھے تھے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ قطر میں پاکستانی سفیر نواز شریف کا ذاتی ملازم ہے جو ایل این جی معاہدے اور جعلی دستاویزات بنانے کیلئے بھیجا گیا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹکے باہر

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاناما سکینڈل کے بعد نواز شریف کو بچانے کیلئے قطریوں کے لمبے لمبے خط آ رہے ہیں ، ایسے خط تو شہزادہ سلیم نے بھی انارکلی کو نہیں لکھے تھے ، سپریم کورٹ سے کرپشن کا تابوت ضرور نکلے گا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ مبارک ہو نواز شریف صاحب آپ کی تمام خرید و فرخت کے پیچھے قطری چہرہ نظر آ رہا ہے ، ایل این جی کا معاہد جس کی کی قیمتوں کی بھنک نہیں دیتے یہ سب قطری مسئلہ ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں قطر میں پاکستان کا سفیر کون ہے ، وہ دفتر خارجہ کا یا سول سروسز کا ملازم نہیں بلکہ نواز شریف کا ذاتی ملازم ہے ، قطرمیں پاکستانی سفیر کو صرف ایل این جی کے معاہدے کرنے کیلئے اور جعلی دستاویرات بنانے کیلئے بھیجا گیا۔شیخ رشید کے پانامہ لیکس کیس بارے شہزادہ سلیم اور انارکلی کے حوالے سے بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدنے کہا ہے کہ نواز شریف کو بچانے کیلئے جتنے خط قطریوں نے لکھے اتنے تو شہزادہ سلیم نے انارکلی کو بھی نہیں لکھے تھے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ قطر میں پاکستانی سفیر نواز شریف کا ذاتی ملازم ہے جو ایل این جی معاہدے اور جعلی دستاویزات بنانے کیلئے بھیجا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…