ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

تاریخ دھرا دی گئی،1990ء میں قومی اسمبلی میں کس کو مار پڑی؟کیوں پڑی اور کس نے کس کو مارا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان لڑائی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے ۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے دور میں جب فاروق لغاری صدر مملکت کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو ایوان میں اس وقت کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ( ن) نے احتجاج کیا تھا ا

س دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین درمیان شدید ہاتھا پائی اور ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے حملہ کرکے مسلم لیگ (ن) کی رہنما بیگم تہمینہ دولتانہ ،مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر جو اس ایم این اے تھے انھیں اور اوکاڑہ سے سابق رکن قومی اسمبلی راؤ قیصر علی کو زخمی کردیا جنھیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ بعد ازاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے میثاق جمہوریت کے ذریعے آئندہ اسطرح کے واقعے کو نہ دہرانے کا عہد کیا ۔۔2008سے 2013 کے دوران ایسا کوئی بھی واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا ۔مسلم لیگ (ن ) نے اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی جماعت پیپلزپارٹی کے ساتھ اسطرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہونے دیا۔ 1995کے بعد جمعرات کو قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑے کا پیش آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی اراکین گھتم گھتا ہو گئے ،مکے ،لاتوں اور گھونسوں کی بارش ہوئی جبکہ پی پی پی اراکین نوید قمر اور دیگر لڑائی چھڑوانے کی کوشش کرتے رہے جو ناکام رہے

سیکیورٹی گارڈز نے اراکین کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا۔ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب شاہ محمود قریشی وزیراعظم نوازشریف کیخلاف تحریک استحقاق کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اس دورا ن پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے وزیراعظم کیخلاف نعرہ بازی کی گئی جس پر حکومتی اراکین بھی اٹھ کھڑے ہوئے نعرے بازی شروع کردی اور معاملہ آہستہ آہستہ گرم ہو گیا جس کے بعد پی ٹی آئی کے شہریار آفریدی اٹھ کر شاہدخاقان عباسی کے پاس گئے اور بدتمیزی کی جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے ایوان اکھاڑا بن گیا اور دورنوں پارٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے پر گھونسوں اور مکوں سے بارش کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…