ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے اہم ترین رہنما کی تین ارب روپے کی کرپشن کا سکینڈل،اپنے ہی رکن ضیاء اللہ آفریدی نے بجلیاں گرادیں

datetime 14  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)تحریک انصاف کے منحرف رہنما ورکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے احتساب کمیشن کے نام پر سیاست چمکائی اور قوم کو بیوقوف بنایا ، صوبائی احتساب کمیشن کے افسران غریب صوبے کے اربوں روپے کھا گئے ، چیف جسٹس سپریم کورٹ اس کرپشن کا از خود نوٹس لیں عمران خان ہمیں مغربی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں خود بھی اخلاقیات پر عمل پیرا ہوں اور سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالنے اور احتساب کمیشن بنانے پر قوم سے معافی مانگیں ، احتساب کا نیا ادارہ قائم کیا جائے ۔

وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہاں ہوں کہ صوبائی حکومت خان صاحب کو بیوقوف بنا رہی ہے ، میں احتساب کے خلاف نہیں لیکن سب کا احتساب ہونا چاہیے ، صوبائی احتساب کمیشن کے ایک افسر نے بیان میں بتایا کہ کمیشن خود کرپٹ افراد پر مشتمل ہے ، جب احتساب کمیشن خود کرپٹ ہوگا تو وہ کرپٹ افراد کا احتساب کیسے کرسکے گا ، عمران خان بتائیں تین سال میں انہوں نے احتساب کمیشن کے ذریعے کتنے کرپٹ لوگوں کو پکڑا ،کونسا سسٹم بہتر کیا، عمران خان قوم سے عملی وعدے کریں ایسی باتیں نہ کریں جنہیں پورا نہ کر سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی پر الزمات نہیں لگا رہا ، احتساب کمیشن کے کمشنر پر الزامات خود کمیشن کا ایک سینئر ڈائریکٹر نے لگائے ہیں ، مجھے امید ہے میں اپنے کیس میں سرخروہوں گا ۔ ضیاء اللہ آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے صوبائی احتساب کمیشن کے نام پر سیاست کی اور پوری قوم کو بیوقوف بنایا ، سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی گئیں ، عمران خان ہمیں مغربی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں ، خود بھی ان اخلاقیات پر عمل پیرا ہوکر پختونوں ، سول سرونٹس اور سیاستدانوں سے معافی مانگیں ، عمران خان بار بار استعفیٰ مانگتے ہیں ،مجھے بھی استعفے کے لئے کہا گیا،اگر وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے تحریک انصاف میں شمولیت کے وقت استعفیٰ دیا ہوتا تو آج میں بھی دے دیتا ، احتساب کمیشن کے ڈی جی نے خود کہا کہ پرویز خٹک معدنیات کے کیس میں ملوث ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے درخواست ہے کہ اس احتساب کمیشن کے حوالے سے قوم سے معافی مانگیں اور نیا احتساب کمیشن قائم کریں ، مشتاق غنی بھی جلد تین ارب روپے کرپشن کیس میں ملزم قرار پانے والے ہیں ۔(م ن)



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…