جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

باتیں کچھ ہوتی رہیں کچھ اور ہی ہوگیا، مشتاق رئیسانی ،معاملہ 40ارب کانہیں بلکہ ۔۔۔! چیئرمین نیب کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی )چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے مشتاق رئیسانی کرپشن کیس کو 40ارب روپے کا کیس قرا ردینے کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل غلط اور بے بنیاد قرار دیدیا اور کہاکہ یہ 40 ارب کا نہیں بلکہ 2ارب 20کروڑ روپے کا کیس ہے، بلوچستان کرپشن کیس ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے مرکزی ملزم سابق صوبائی مشیرخزانہ خالد لانگو کے خلاف ریفرنس تیار کیا جارہا ہے جو جلد عدالت میں دائر کردیا جائے گا، ملزمان سے تین ارب 20کروڑ روپے کی بر آمدگی کی گئی ہے،جن ملزمان سے پلی بارگین کی گئی ہے وہ دونوں خالد لانگو کے خلاف عدالت میں وعدہ معاف گواہ بنیں گے ،نیب افسران ایمانداری کے ساتھ قانون کے مطابق کام کرتے ہیں،نیب کو ئی غیرقانونی کام نہیں کرتا،عدالت کی منظوری کے بعد پلی بارگین کی جاتی ہے اور اس سے کرپشن کیسوں کی تحقیقات میں مدد ملتی ہے۔بدھ کو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیب افسران قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں اور ایمانداری کے ساتھ کام کیا جارہا ہے،نیب میں کہیں بھی غیرقانونی کام نہیں ہورہا،بلوچستان کرپشن سکینڈل کی چالیس ارب سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں یہ کرپشن کیس 2ارب 20کروڑ روپے کا ہے اور یہ بلوچستان کے مچھ اور خلیق آباد کے ترقیاتی فنڈ میں خرد برد ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ اس سکینڈ ل کے مرکزی ملزم سابق مشیرخزانہ خالد لانگو کے خلاف کرپشن ریفرنس تیار کیا جارہا ہے جو جلد عدالت میں دائر کردیا جائے گا جبکہ سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اورسہیل مجید شاہ سے دو ارب روپے سے زائد کی ریکوری کرکے ان کی ایک ارب روپے سے زائد کی جائیدادیں قبضے میں لی گئی ہیں،اس طرح مجموعی ریکوری 3ارب20کروڑ روپے کی ہے۔انہوں نے کہاکہ مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید شاہ سے پلی بارگین قانونی تقاضے پورے کرنے اور لوٹی ہوئی رقم کی ریکوری کے بعد کی گئی ۔یہ دونوں ملزمان مرکزی ملزم خالد لانگو کے خلاف گواہ بھی بنیں گے اور عدالت میں گواہی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے،یہ کرپشن کیس ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔۔۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…