پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’پاکستانیوں کیلئے خوشخبری‘‘سی پیک سے کتنی لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی؟ 2030 ء تک پاکستان کہاں ہوگا؟

datetime 25  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(آن لائن)’’چین پاکستان اکنامک کوریڈور سے 2015 ء اور 2030ء کے درمیان عوام کوتقریباً 7 لاکھ برائے راست ملازمتیں میسّر آئینگی، یہ پروجیکٹ معاشی خوشحالی کی ضمانت ہے جو 2 سے2.5 فیصد پوائنٹس پاکستان کی سالانہ معاشی پیدوارمیں اضافے کا سبب ہوگا، پرائیویٹ سیکٹر پاکستان میں مسلسل توانائی کی قلت پرقابو پانے کے لئے 33 ارب ڈالر کی مالیت کا توانائی انفرااسٹریکچر تعمیر کرے گا، موجودہ 229 ارب ڈالر پر مشتمل ملکی معیشت میں 2025 ء تک 1.30 کھرب ڈالر کی توسیع اس منصوبے کا ایک اہم نتیجہ ثابت ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار تحقیقی مرکز برائے اطلاقی معاشیات، جامعہ کراچی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل نے جمعہ کوتحقیقی مرکز برائے اطلاقی معاشیات میں ایک لیکچر کے دوران کیا۔پروفیسر ثمینہ خلیل نے کہا اس منصوبے کی ترقیاتی ترجیحات میں ٹرانسپورٹ، ذرائع ابلاغ، توانائی انفرااسٹریکچر، انڈسٹریل پارکس، اسپیشل اکنامک زون اور افراد کا افراد سے تعاون شامل ہیں۔انھوں نے کہا اس معاہدے کا مقصد حکومت کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اس اکنامک کوریڈور کی منصوبہ بندی اور افزائش میں تعاون کرسکے اور کوریڈور سے منسلک معاشی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکے، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کی توسیع اور ترقی کا سبب ہوگا، انھوں نے کہااکنامک کوریڈور کے اہم مثبت نتائج میں 2025ء تک 5 ہزار ڈالر تک فی کس آمدن میں اضافہ، ملکی برآمدات میں موجودہ 25 ارب ڈالر سے 150 ارب ڈالر تک اضافہ اور قومی بچت میں کل جی ڈی پی کا26 فیصد تک اضافہ شامل ہیں۔انھوں نے کہا اس منصوبے کی چند اہم خصوصیات ہیں جن میں سرمایہ کاروں کے اعتمادکی بحالی، قومی جی ڈی پی کی افزائش میں 7 فیصد اضافہ، تعمیراتی سیکٹر کے تحت معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، شعبۂ توانائی میں بحرانی کیفیت کا خاتمہ، انفرااسٹریکچر کی ترقی، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ملازمت کے مواقع، کوریڈور سے منسلک نئے خصوصی معاشی زون کا قیام اوراس سے منسلک تمام خطوں اور صوبوں کے لئے یکساں معاشی فوائد کی ضمانت نمایاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…