پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

اگر آصف علی زرداری کو گرفتار کیا تو۔۔۔! معروف صحافی حامد میر نے حیرت انگیزدعویٰ کردیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد ( آن لائن) سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والی رینجرز کی کارروائیوں کے بعد بھی اگر آصف علی زرداری پاکستان آتے ہیں اور اگر انہیں گرفتار بھی کر لیا جاتا ہے تو اس کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی کو ہی ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی کے درمیان ڈیل کی باتیں بھی غلط ثابت ہو گئیں۔ واپسی کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے چند سیاسی رہنماؤں نے پی پی سے رابطہ کر کے کہا کہ زرداری کو فی الحال واپس نہیں آنا چاہئے۔ ایک سینیٹر نے گزشتہ روز مجھ سے شرط لگانے کیلئے بھی کہا کہ آصف علی زرداری واپس نہیں آئیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے دفاتر پر رینجرز کے چھاپوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے کراچی آنے سے چند گھنٹے قبل جو چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اس سے متعلق انہیں معلوم بھی ہو چکا ہے۔ اگر وہ اب بھی اپنے جہاز کا رخ واپس نہیں موڑتے اور پاکستان آ جاتے ہیں جس کے بعد وہ 27 دسمبر کو جلسے سے خطاب بھی کریں گے تو اس کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی کو ہی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ذہنی طور پر گرفتاری کیلئے بھی تیار ہیں اور اگر انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ بھی پیپلز پارٹی کو ہی پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری دراصل ستمبر کے مہینے میں واپسی کا فیصلہ کر چکے تھے اور تاریخ بھی طے ہو چکی تھی لیکن اس وقت پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ آپ ہمیں صلاح مشورہ کرنے دیں اور اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ہماری مرضی سے ہی واپس آئیں۔ آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماؤں کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے پہلے آنا چاہتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکتے کہ راحیل شریف کی موجودگی میں واپس نہیں آ سکا، اگر کسی نے پکڑنا بھی ہے تو پکڑ لے۔

آصف علی زرداری کی جانب سے یہ جواب ملنے پر پارٹی رہنماؤں نے بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ آپ اپنے والد سے درخواست کریں کہ وہ ابھی واپس مت آئیں جس پر ان کی وطن واپسی موخر ہوئی اور اب آج وہ واپس آ رہے ہیں تو ان کو روکنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں میں جب سے انہوں نے واپسی کا اعلان کر رکھا ہے تو حکومت کی جانب سے کچھ وزراءاور سیاسی لوگوں نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کر کے انہیں یہ کہا تھا کہ فی الحال آصف علی زرداری کو واپس نہیں آنا چاہئے۔

سینئر صحافی نے یہ انکشاف بھی کیا کل مسلم لیگ ن کے سینیٹر نے ایک شرط لگا رہے تھے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے تو میں نے کہا کہ ایک دن قبل آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں تاہم انہوں نے کوئی جواب نہ دیا جس پر مجھے کل ہی یہ معلوم ہو گیا تھا کہ آصف علی زرداری کی واپسی سے قبل کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو گا۔ حامد میر نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے جب بیان دیا کہ آصف علی زرداری کے وطن واپس آنے پر بہت خوشی ہے اور ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں تو اس پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا کہ نواز شریف نے چونکہ اب ایک میٹھا بیان دیدیا ہے اس لئے آصف علی زرداری کیساتھ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی نواز شریف کی جانب سے جاری ہونے والے خیرمقدم کے بیان کا مطلب یہ لیا گیا کہ ان کیساتھ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔ حامد میر نے مزید کہا کہ اب پتہ نہیں کراچی میں رینجرز کے چھاپے کس کے حکم پر مارے جا رہے ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کے بیان کا جو مطلب پیپلز پارٹی نے لیا تھا وہ درست ثابت ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے 4 مطالبات کی منظوری کی ڈیڈ لائن 27 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے جس کے باعث تحریک کا اعلان بھی ہو سکتا ہے اس لئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اسے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…