ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اگرہم بھارت میں مساجد کومحفوط کرناچاہتے ہیں توپاکستان میں یہ کام کیاجائے ،سینئررہنمانے امن کافارمولادیدیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)تحر یک انصاف کے وائس چیرمین شاہ محمودقر یشی نے کہا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی مساجد محفوظ ہونی چاہئیں تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ پا کستان میں مندر محفوظ ہوں ،اقلیتوں کے امتیازی قوانین پر نظرثانی کیے جانے کا مطالبہ بہت ہی معقول ہے ، اگر ہم اس پر عملی طورپر قدم آگے نہیں بڑھا رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم قائد اعظم ؒ کے فلسفے پر عمل پیرا نہیں ہیں ۔

وہ جمعرات کے روز لاہور میں تحر یک انصاف مینارٹی ونگ کے زیر اہتمام کر سمس کے حوالے سے کیک کاٹنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقعہ پراپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید ’سابق صدر اعجاز احمد چوہدری ‘ رکن قومی اسمبلی شفقت محمود ‘ حامد خان ، میاں حماد اظہر ،ولید اقبال ، رکن صوبائی اسمبلی شنیلہ روتھ’پاسٹر انور فضل ‘بشپ سموئیل ‘پادری مجید‘رانا اختر حسین اور عدنان جمیل سمیت دیگر بھی موجود تھے اس موقعہ پر اپنے خطاب میں شاہ محمود قر یشی نے کہا کہ ، تحر یک انصاف حق اور سچ کی جنگ لڑ رہی ہے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ‘کر پشن کے خاتمے سے ہی ملک میں ترقی اور خوشحالی ممکن ہو سکتی ہے‘پاکستان کا مخالفین نے دنیا میں امیج بہت متاثرکر دیا ہے اور ہمیں دنیا میں انتہا پسند ملک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے مگر حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ‘اسلام محبت امن اور بھائی چارہ کا درس دیتا ہے ‘اقلیتوں کی وفاداری پر شک نہیں کیا جاسکتا ،مجھے عام انتخابات میں سندھ سے قومی اسمبلی کی نشست پر45فیصد سے زائد ووٹ اقلیتوں کی جانب سے ملے ہیں ‘تحر یک انصاف میں کئی اہم عہدے اقلیتوں کے پاس ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھارت میں مساجد کی حفاظت کی توقع کرتے ہیں تو پھر ہمیں پاکستان میں مندر وں کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہوگا اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ہند وسمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف بنائے جانیوالے امتیازی قوانین کو ختم ہونا چاہیے اور تحر یک انصاف اقتدار میں آکر ہر سطح پر اقلیتوں کو انکے حقوق دیں گی او ر جو بھی امتیازی قوانین ہوں گے انکو ختم کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ تحر یک انصاف اپنی پارٹی میں بھی تمام اقلیتوں کوساتھ لیکر چل رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…