اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بلٹ پروف گاڑی سے متعلق مزید دلائل سننے سے انکار کر دیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری کی بلٹ پروف گاڑی کے بارے میں مزیددلائل سننے سے معذرت کرتے ہوئے گاڑی8 دسمبرکوپیش کرنے کا حکم دیاہے۔عہدے سے فارغ ہونے کے باوجود افتخار چوہدری کے پاس بلٹ پروف گاڑی کی موجودگی کے خلاف درخواست اسلام آباد کے ایک شہری حنیف راہی کی طرف سے دی گئی جس میں درخواست گزار حنیف راہی کا کہنا تھا کہ بلٹ پروف گاڑی کا پیٹرول اور گاڑی کے دیگر اخراجات عوام کے دیے ہوئے ٹیکسوں سے ادا کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ افتخار محمد چوہدری دسمبر سنہ 2013 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے جس کے بعد اُنھوں نے حال ہی میں پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بھی بنائی ہے اور اس پارٹی میں زیادہ ارکان کا تعلق وکلا برادری سے ہے۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف عدالت نے حکم جاری کر دیا ۔۔ کیا چیز فوراً واپس طلب کر لی ؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مولانا طارق جمیل نے بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا اور بچہ کون ہے؟ وضاحت سامنے آگئی
-
ڈاکٹر سارنگ ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت،مقتول کی اہلیہ مبینہ طور پر ملوث نکلی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
-
عید الاضحیٰ کے دوران ملک بھر میں موسم کیسا رہےگا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
پی ڈی ایم اے پنجاب کا صوبہ بھر میں آندھی اور بارشوں کے متعلق الرٹ
-
موسمی پرندے
-
ایک میزائل، متعدد نشانے، بھارت کا’’مشن دیویاستر‘‘ کے تحت ایڈوانسڈ اگنی میزائل کا کامیاب تجربہ
-
مزید 191 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں سامنے آ گئیں
-
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو اہم ہدایت جاری
-
پاکستان کی ایران جنگ بندی کوششیں، یو اے ای ناراض، پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی شروع، نیو یارک ٹائمز ک...
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بتا دی
-
اداکار وجے کا وزیراعلیٰ بنتے ہی گھریلو صارفین کو مفت بجلی دینے کا حکم
-
شاہین آفریدی نے بنگلا دیش کیخلاف ٹیسٹ میچ میں بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا
-
کسٹم گودام میں لگی آگ پر 22 گھنٹوں بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا، 100 سے زائد گاڑیاں جل گئیں



















































