جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس، اینٹی کرپشن ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تجاویز کا جائزہ

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے اور اسے ایک متحرک اور فعال ادارہ بنانے کیلئے اینٹی کرپشن ایجنسی کے قیام کی منظوری دے دی ہے جو مکمل طور پر خودمختار اور آزاد ہوگی۔ اینٹی کرپشن ایجنسی کے قیام کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن قوانین بنانے کے حوالے سے بھی فوری اقدامات کرے گی۔

ایجنسی کے تنظیمی ڈھانچے کیلئے دنیا کے بہترین ماڈل سے استفادہ کیا جائے گا اور اس ضمن میں بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ وہ آج یہاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لینے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کرپشن کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہمارے تمام بڑے ترقیاتی منصوبے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں گڈگورننس، رشوت ستانی کے خاتمے اور کرپشن کو روکنے کیلئے ادارے کو مزید متحرک اور فعال انداز میں اپنے فرائض سرانجام دینا ہوں گے اور اسی لئے اینٹی کرپشن ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضمن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے اصلاحات عمل میں لائی جائیں اور سٹاف کی استعدادکار بڑھانے کیلئے تربیت کا جامع پروگرام وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں فرائض سرانجام دینے والے سٹاف کی کارکردگی کی مانیٹرنگ بھی بے حد ضروری ہے اور اس ضمن میں جزا اور سزا کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ کارکردگی کی بنیاد پر سٹاف کو مراعات دینے کی پالیسی بھی مرتب کی جائے اور شارٹ ، میڈیم اور لانگ ٹرم اقدامات کو 3 ہفتے میں حتمی شکل دے کر روڈمیپ وضع کیا جائے اور اس پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

انہوں نے اینٹی کرپشن ایجنسی کے قیام کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن قوانین بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات کرے اور اینٹی کرپشن میں زیرالتواء انکوائریوں کو مقررہ معیاد میں نمٹانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی درخواستیں دینے والوں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بریگیڈیئر (ر) مظفر علی رانجھا نے ادارے کی کارکردگی اور دیگر امو رکے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔مشیر ڈاکٹر عمر سیف، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری قانون، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، سیکرٹری سروسز اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…