جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعلیٰ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ اورمتعلقہ افسروں کو فرائض میں کوتاہی برتنے پرمعطل کرنے کاحکم

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(پ ۔ر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہمیں نے عوام کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی اورہسپتالوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے ۔اس سفر میں کسی کو رخنہ نہیں ڈالنے دوں گا۔میں اس وقت مطمئن ہوں گا جب عوام ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کریں گے۔عوام کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جو کچھ انسانی بس میں ہے کروں گا۔اللہ کیساتھ عوام کو بھی جوابدہ ہوں ۔جو کام نہیں کرے گا ،وہ گھر جائے گا۔معاملات اب اس طرح نہیں چلیں گے، سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کی صورتحال میں بہتری لانے کے حوالے سے اپنی ہدایات پر عملدر آمد نہ کرنے اورفرائض کی انجام دہی پر کوتاہی برتنے پر ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ اورمتعلقہ افسروں کو فوری طورپر معطل کرنے کاحکم دیا

۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے سابق ایم ایس اورسابق ای ڈی او ہیلتھ کو بھی معطل کر کے ان کے خلا ف کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کی سیوریج سکیم میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر متعلقہ ایس ای،ایکسین اورایس ڈی او کو بھی معطل کرنے کاحکم دیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانچ ماہ کے دوران ہسپتال کے میرے دوسرے دورے کے باوجود میری ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے ۔وہ آج یہاں اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں وزیراعلیٰ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب کے دورے کے دوران سامنے آنیوالے امور اورمسائل کا جائزہ لیاگیا۔وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کا درد نہ رکھنے والے افسرعہدوں کے لائق نہیں بلکہ سزا کے حقدار ہیں ۔ کسی افسر کی غفلت یا کوتاہی کی سزاکسی غریب کو نہیں دی جاسکتی ۔

بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی پرہر شہری کا حق ہے اوریہ حق اسے دینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سوئے ہوئے نظام کو جھنجوڑنا ہوگا،مجھے صرف نتائج چاہئیں ۔ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے ٹھوس نتائج دینا ہوں گے۔مریضوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی برتنے والوں کیلئے پنجاب میں کوئی جگہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرننکانہ اوردیگر افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے ۔وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ کمشنرزاورڈی سی اوز کوہسپتالوں کے باقاعدگی سے دورے کرکے صورتحال کو بہتر بنانے کا پابند کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں سیوریج جیسے مفاد عامہ کے منصوبوں میں کوتاہی ناقابل برداشت ہے ۔مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق،پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر ،چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ڈی سی او ننکانہ،ای ڈی او ہیلتھ اورایم ایس ڈی ایچ کیو ننکانہ ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…