ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

گجرات میں بچی سے زیادتی ،پنجائیت کے حکم پروالد کی سزابیٹی کو،شادی شدہ خاتون نے خودکشی کرلی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

گجرات (مانیٹرنگ ڈیسک ) گجرات میں پنچایت کے حکم پر شادی شدہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا جس کے بعد خاتون نے خود کو آگ لگا کر خودسوزی کر لی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میو ہسپتال میں دم توڑ گئی ۔میڈیار پورٹس کے مطابق گجرات کے نواحی علاقے جلال پور جٹاں کے گاؤں ڈلوغربی میں پنچایت نے جہالت کی انتہا کر دی ، بچی سے زیادتی کے بدلے شادی شدہ اور حاملہ خاتون ماریہ لیاقت سے زیادتی کرنے کا فیصلہ سنا دیا جس پر عملدرآمد بھی ہو گیا تاہم زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون نے دلبرداشتہ ہو کرخود کو آگ لگا لی اورزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج میو ہسپتال میں دم توڑ گئی ۔ذرائع کے مطابق خاتون نے موت سے چند لمحے پہلے پولیس کونزعی بیا ن دیتے ہوئے کہا کہ پنچایت کے فیصلے پر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ

وہ شادی کے بعد اپنے باپ کے پاس ہی رہتی تھی کیونکہ اس کا شوہر سعودی عرب میں مقیم ہے تاہم اس کے والد پر بچی سے زیادتی کا جھوٹا الزام لگایا گیا مگر اس کے باوجود پنچایت نے فیصلہ سنایا تھا کہ جس طرح اس کے باپ نے لیاقت علی نے محمد بوٹا کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اسی طرح اب محمد بوٹا بھی لیاقت کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرے گا تاہم زیادتی کے بعد وہ حاملہ ہو گئی ۔اس نے پولیس کو مزید بتایا کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنے کے بعد وہ آزاد کشمیر میں اپنے شوہر کے گھر آگئی اور بیس اکتوبر کو خود وکو آگ لگا کر خودسوزی کی کوشش کی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کے والد لیاقت علی نے محمد بوٹا نامی شخص کی سات سالہ لڑکی کی ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی جس پر اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور گرفتار ہونے کے بعد جیل میں 6ماہ کی سزا بھی بھگت چکا ہے تاہم اسے معاہدے کے مطابق صلح نامہ کر کے جیل سے اسی شرط پر نکالا گیا تھا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ بھی زیادتی کی جائے گی ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پنچایت کے اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے متاثرہ بچی کے والد نے ملزم کی شادی شدہ بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس پر اس نے خود سوزی کی کوشش کی تاہم اسے تشویشناک حالت میں میو ہسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی ہے ،وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے اس دلخراش واقعے کی فوری طورپررپورٹ طلب کرلی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…