ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی بادشاہ ہر مہینے مجھے معقول رقم بھیجتے رہے ،ایک دن ناراض ہوگئے وجہ کیاتھی؟پرویزمشرف کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد/لندن(آن لائن)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر پاکستان جنرل(ر)پرویزمشرف نے کہا کہ حکومت نے سرل لیکس کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور اس طرح کی کوششیں کارگل میں سابقہ ادوار میں بھی کی گئی تھیں،موجودہ حکومت کیخلاف عمران خان اور طاہر القادری کا احتجاج بالکل درست ہے ملک کو کرپشن سے نجات اور عوام کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ مودی اور نوازشریف کے ذاتی تعلقات پاکستانی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں

جسکی وجہ سے بھارتی جارحیت اور انتہا پسندی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جب ملک اندرونی خلفشار اور عوام بدحالی کا شکار ہوگئی تو پڑوسی ملک ہمیں دباتا رہے گا۔میرے دور حکومت میں ملک کی جی ڈی پی بھارت سے کہیں زیادہ تھا،عوام خوشحال تھی،ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا جسکی وجہ سے بھارتی حکمران آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرسکتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی اداروں کی ساکھ خراب کرنا بری بات ہے۔پانامہ لیکس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے،سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا جارہا ہے ،اگر حکمرانوں کو پاکستان اور اپنی عزت کا خیال ہو تو انہیں استعفی دے دینا چاہئے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ شریف خاندان اور آصف زرداری کھرب پتی ہیں۔دبئی اور لندن میں تمام ٹیکسی ڈرائیور کو بھی انکی جائیدادوں اور اکاؤنٹس کا علم ہے۔ہمارے ملک کے آ ئین میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام نہیں ہے۔میری فیملی پر کرپشن کا ایک روپیہ بھی حرام ہے۔میرا کوئی آف شور اکاؤنٹ یا آف شور کمپنی ہے نہ ہی میں نے کوئی اثاثے بنائے ہیں۔سعودی بادشاہ کنگ عبداللہ میرے بھائیوں جیسے ہیں۔انہوں نے میرے نام پر اکاؤنٹ کھولا اور ہر مہینے مجھے معقول رقم بھیجتے رہے اور مجھے گھر بھی تحفے میں دیا ورنہ میں چھ ماہ تک ایک دوست کے مکان میں کرائے پر رہتا رہا۔اب اللہ کا شکر ہے میرا لیکچرز سرکٹ کی فیس ایک سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر فی40منٹ ہے اور میں کتابیں لکھ کر اپنا خرچ چلاتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ 1999ء میں نوازشریف کو سزائے موت دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے کہنے پر شریف فیملی کو ملک سے باہر جانے دیا۔

سعودی عرب اور پاکستان حکومت کے مشترکہ دوست لبنان کے صدر الحریری نے مجھے فون کرکے بتایا کہ شاہ عبداللہ نے آپ سے اپنے دوست شریف خاندان کی رہائی کی درخواست کی مگر آپ نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا جس پر وہ ناراض ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ شاہ عبداللہ سے خصوصی ملاقات کے دوران میں نے شریف فیملی کو ملک سے باہر جانے دیا۔پرویز مشرف نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ آرمی چیف سمیت تمام کورکمانڈر ملک کی صورت حال پر سخت پریشان ہیں کیونکہ عوام کی امیدیں آرمی سے وابستہ ہیں مگر آئین میں اس معاملے پر کوئی حل موجود نہیں۔پاکستان آرمی کو کوئی بھی فیصلہ اچھی نیت کے ساتھ پاکستان اور اسکی عوام کے وسیع تر ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے لینا چاہئے۔قانون میں ترمیم کرکے سیاستدانوں نے آرمی کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں اور اس وقت تمام امیدوں کا محور سپریم کورٹ ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کو ملکی و عوامی مفاد کو نظر میں رکھ کر پاکستان کے حق میں فیصلہ دینا چاہئے کیونکہ ملک کو کرپشن اور عوام کو حکمرانوں سے نجات کی ضرورت ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…