جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

خیبرپختونخوامیں غذائی بحران کا خدشہ،راستے کھول دو ورنہ۔۔! خیبر پختونخواحکومت نے وفاق کوبڑے اقدام کی دھمکی دیدی

datetime 29  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں
پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق احمدغنی نے وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے تمام راستوں کی بندش پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کا یہ اقدام خیبر پختونخوا سے دشمنی کے مترادف ہے ۔ تمام راستوں کی بندش سے خیبر پختونخوا اس وقت ایک جیل کا منظر پیش کررہا ہے ٹرانسپورٹ کی امدورفت نہ ہونے کی باعث صوبے میں غذائی بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اگر وفاقی حکومت نے تمام راستے فوری طور پر نہ کھولے تو نتائج کی خود ذمہ داری ہوگی ۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں انہو ں نے کہا کہ میاں نوازشریف اس وقت مودی کے نقش پر چل رہے ہیں ۔ ایک ملک کے وزیر اعظم نے کس کس قانون اور آئین کے تحت ایک صوبے کو ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع کردیا ہے ۔ وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کو ملک کے دیگر حصوں سے منقطع کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے جس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے ۔ خیبر پختونخوا کو لاس ڈاؤن کرکے مسلم لیگ (ن) نے بہت بڑی غلطی کی ہے جس کا خمیازہ انہیں بھگنا پڑے گا ۔ مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خود امن وامان کی صورت حال خراب کررہی ہے آج صوبہ بھر کے عوام صوابی انٹر چینج کے قریب دریائے کابل کے کنارے جمع ہوں گے ۔ یہاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کے غیر منصفانہ اور مجرمانہ اقدامات پر آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ مشتاق احمد غنی نے انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن خیبر پختونخوا کی سینئر قیادت مینا خان ، ڈاکٹر شفقت آیاز ، شاہد خٹک اور اقبال داوڑ سمیت دیگر درجنوں کارکنوں کی گرفتار یوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کا ایک افسوسناک اور بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے پرامن کارکنوں کو رہا کریں ۔گرفتاریوں اور پرتشدد کارروائیوں سے تحریک انصاف کے کارکن نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ پیچھے ہٹیں گے ۔ وفاقی حکومت کے ایسے اقدامات صورت حال کو مزید کشیدہ کر رہے ہیں ۔ پرامن احتجاج ہر ایک آئینی اور قانونی ہے ۔ 02نومبر سے پہلے ہی وفاقی حکومت نے سڑکوں کی بندش اور پرامن شہریوں کی گرفتاریوں سے حالات خود ہی بگاڑ دئیے ہیں اور اب یہ نظام نواز حکومت کے تختہ الٹنے سے ہی درست ہو گا ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…