جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید ’’مولاجٹ‘‘بن گئے،راولپنڈی میں کیا کام کردکھایا،سعد رفیق بھی بول پڑے

datetime 28  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شیخ رشید مولاجٹ بنے پھر رہے ہیں،4آدمیوں کے ساتھ بھاگتے بھاگتے آئے اور بھاگتے واپس چلے گئے،فاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے کا شوق نہیں،تحریک انصاف کی قیادت اور شیخ رشید کارکنوں کو اکسا رہے ہیں،حالات مزید کشیدہ نہیں ہوں گے، گلوکار آسمان سے نہیں اترتے،چاہے سیاستدان ہو یا سنگر جو بھی بلوا کریگاقانون اس کے خلاف حرکت میں آئیگا۔عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ تحریک انصاف نے جمہوریت کے نام پر وہ ہلہ گلہ کیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی،اس دفعہ تو معاملہ بالکل مختلف ہے،

عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کو سیل کریں گے،اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہے،کسی پارٹی کا شہرنہیں،جڑواں شہروں میں50لاکھ شہری رہتے ہیں،اداروں کے دفاتر ہیں،ڈپلومیٹس رہتے ہیں،عمران خان نے کہا کہ مارکیٹیں زبردستی بند کرائیں گے تو حکومت چپ کرکے تماشہ نہیں دیکھ سکتی ہے،شہر کو کھلا رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹی او آرز پر مذاکرات کئے،پانامہ کے معاملے پر سپریم کورٹ میں کیس ہے،احتجاج کا کیا جواز بنتا ہے ٗاسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی حکومت نے تعمیل کی تاہم تحریک انصاف نے انکار کیا،آج ان کو عدالت یاد آرہی ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شیخ رشید مولاجٹ بنے پھر رہے ہیں،4آدمیوں کے ساتھ بھاگتے بھاگتے آئے اور بھاگتے واپس چلے گئے،پولیس نے پکڑنا ہوتا تو پکڑ سکتی تھی،عمران خان،شاہ محمود قریشی اور

جہانگیر ترین خود اپنے محلات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کارکنوں کو گمراہ کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ حالات کشیدہ نہیں ہوں گے،قانون سب کیلئے ایک ہے،گلوکار آسمان سے نہیں اترا ہوتا چاہے سیاستدان ہو یا گلوکار جو بھی بلوا کریگا ٗقانون اس کے خلاف حرکت میں آئے گا،سلمان احمد بنی گالا کیا لینے جارہے تھے جہاں اسلام آباد بندکرنے کی سازش کی جارہی ہے،2نومبر کو بھی کوئی غیر آئینی کام ہوا تو قانون حرکت میں آئے گا،حکومت سیاسی کارکنوں کو گرفتار نہیں کرنا چاہتی تاہم شیخ رشید اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاریوں کیلئے اکسارہی ہے،حکومت شیخ رشید کو گرفتار نہ کرکے ابھی بھی تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…