اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

ذاتی کاروبار کو قومی مفاد پر ترجیح ،عدالت نے تفصیلی فیصلہ سنادیا،شریف فیملی ایک اوربڑی مشکل میں

datetime 12  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (آن لائن۔مانیٹرنگ ڈیسک) لاہورہائیکورٹ نے شوگر ملوں کی منتقلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملوں کی منتقلی کے حوالے سے ذاتی کاروبار کو قومی مفاد پر ترجیح دی گئی۔ پنجاب حکومت نے 2006ء میں نئی شوگر ملیں لگانے اور انہیں منتقل کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کپاس کے خطے میں شوگر ملیں نہیں لگائی جاسکتیں۔ اس لیے شوگر ملوں کی منتقلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی رشتے داروں کو لاہور ہائی کورٹ نے اپنی پانچ شوگر ملز نئے مقام پر منتقل کرنے سے روک دیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین، انڈس شوگر ملز اور آر وائی کے شوگر ملز کے مالکان نے 6 دسمبر 2006 کو پٹیشن دائر کی تھی جس میں موقف اختیار گیا گیا تھا کہ پنجاب انڈسٹریز (کنٹرول آن اسٹیبلشمنٹ اینڈ انلارجمنٹ) آرڈیننس 1963 کے تحت پابندی کے باوجود شریف خاندان پانچ شوگر ملز کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ شریف خاندان ملز کی منتقلی کی آڑ میں نئی شوگر ملز لگانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور انہوں نے 4 دسمبر 2015 کو اس حوالے سے انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفیکیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق چوہدری شوگر ملز، اتفاق شوگر ملز(ساہیوال)،حسیب وقار شوگر ملز (ننکانہ صاحب)، عبداللہ یوسف شوگر ملز (سرگودھا) اور عبداللہ شوگر ملز(دیپالپور) کے مالکان کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ ان یونٹس کو دیگر اضلاع میں منتقل کرسکتے ہیں۔درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ شریف خاندان نے پابندی کے باوجود شوگر ملز کی منتقلی کا اجازت نامہ حاصل کرلیا۔درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ ’یہ نوٹیفیکیشن نئی شوگر ملز کے قیام میں سہولت کاری اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لیے جاری کیا گیا جو شریف خاندان کی ملکیت ہیں‘۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اتفاق شوگر ملز کے مالکان نواز شریف، حسن نواز شریف، حسین نواز شریف، مریم نواز، کلثوم نواز، حمزہ شہباز وہ دیگر ہیں۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…