جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

’’چین نےدوستی کا حق ادا کر دیا ‘‘ چین کیا کام کرنے جارہا ہے؟پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان نے کہا ہے کہ چین اس کے ریلوے کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کیلئے مدد کررہا ہے ، اس سے دونوں ممالک اور علاقے کو فائدہ حاصل ہو گا ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین کا ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ پاکستان کے ریلوے کے نظام کو اپ گریڈ کرنے میں معاون ثابت ہو گا ، اس منصوبے پر کراچی پشاور ریلوے لائن جسے مین لائن ون (ایم ایل آئی )کہا جاتا ہے عمل کیا جائے گا۔یہ بات پاکستان کے مرکزی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی اور اصلاحات احسن اقبال نے گلوبل ٹائمز کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کا منصوبہ سی پیک میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، یہ نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ علاقے کے تمام ممالک کو منسلک کر دے گا اور اس سے تما م علاقے میں نقل و حمل کی سہولتیں حاصل ہوجائیں گی ، پاکستان جنوبی ایشیا ، مرکزی ایشیا اور چین کی سرحدوں کے ساتھ واقع ہے اور وہ علاقائی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتا ہے ، ایم ایل آئی ون کے 1700طویل ریلوے لائن کی اپ گریڈنگ سی پیک کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے ،جس سے گوادر کی بندرگاہ کو خنجراب کے ساتھ ملادیا جائے گا جو چین اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے ۔وفاقی وزیر نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ 8ارب ڈالر کی لاگت سے پانچ سال میں مکمل ہو جائے گا ، اس کے لئے بنک آف چائنا 5.5ارب ڈالر اور باقی رقم ایشین ترقیاتی بنک ادا کررہاہے ،اس منصوبے کی تکمیل سے چین اور پاکستان کے درمیان ریل کا رابطہ بہتر ہو جائے گا اور اس سے سامان کی نقل وحرکت کیلئے پاکستان اور چین کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی ایک متبادل تجارتی ذریعہ مل جائے گا ، حالیہ برسوں میں گوادر بندر گاہ کی تعمیر میں تعاون کے باعث چین اور پاکستان کے تعلقات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کر کے ہم بڑی سہولت اور تحفظ محسوس کرتے ہیں ،چینی حکومت نے بھی بڑے بڑے سرمایہ کاروں کی پاکستان میں کام کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی ہے، یہ منصوبے چین اور پاکستان کی دوستی کی روشن علامت بن گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریل کا نظام اس کی معیشت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،اس سلسلے میں نومبر میں ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں ان منصوبوں پر غور کیا جائے گا اور مختصر اور طویل المیعاد منصوبوں کے بارے میں فریم ورک تیار کیا جائے گا ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…