بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

احتساب مارچ، لاہور کے کون کون سے راستے بند ہیں؟جانئے

datetime 3  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے احتساب مارچ کے باعث پولیس نے شاہدرہ سے گورنر ہاؤس تک بیشتر راستوں کو رات سے ہی کنٹینرز لگا کر سیل رکھا جس سے شہری خوار ہوتے رہے ، خار دار تاریں لگا کر پیدل گزرنے کے راستے بھی بند رکھے گئے جس پر عوام پی ٹی آئی اور حکومت کو کوستے رہے، راستہ نہ ملنے پر شہریوں اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی ہوئے ، راستوں کی بندش کی اطلاعات پر شہریوں نے اپنی سر گرمیاں معطل کر دیں ۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کی طرف سے تحریک انصاف کے احتساب مارچ کے شرکاء کی حفاظت اور کارکنوں کے طے شدہ مقام سے آگے بڑھنے کے کسی بھی واقعہ کو روکنے کے لئے شاہدرہ سے گورنر ہاؤس تک تمام شاہراہوں پر کنٹینرز کھڑے کر کے سیل کر دیا گیا ۔ پولیس کی طرف سے مال روڈ پر واقع 90شاہراہ قائد اعظم اور گورنر ہاؤس سمیت دیگر اہم شاہراہوں کے باہر کنٹینر ز کھڑے کر دئیے گئے جس سے عوام کو شدید مشکلات درپیش رہیں۔ پولیس کی طرف سے شاہدرہ سے مال روڈ کی طرف آنے والی شاہراہوں کے مختلف مقامات پر کنٹینرز اور ملحقہ راستوں کو خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات درپیش رہیں۔ شہری راستہ نہ ملنے کے باعث ادھر ادھر خوار ہوتے رہے اور پی ٹی آئی اور حکومت کو کوستے رہے جبکہ کئی مقامات پر شہریوں اور پولیس کے درمیان توں تکرار او ر ہاتھا پائی کے واقعات بھی ہوئے ۔مال روڈ پر گورنر ہاؤس کے سامنے دونوں راستوں پر کنٹینرز کے ذریعے راستے بند کرنے پر شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت اورپی ٹی آئی دونوں کے خلاف نعرے لگائے ۔

شہری ایک دوسرے کو راستوں کی بندش کی اطلاعات بھی دیتے رہے جس کے بعد اکثریت نے اپنی باقی ماندہ سر گرمیاں معطل کر دیں اور گھروں میں موجود رہے ۔ تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر عبد العلیم خان اور مرکزی رہنما جمشید اقبال چیمہ نے لاہور بھر میں راستوں کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بوکھلاہٹ میں کنٹینرز لگا کر پورے شہر کو قید خانے میں تبدیل کر دیا ۔شہریوں کی آزاد نقل و حمل پر قدغن لگانا انتہائی شرمناک عمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جتنی ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کریں گے عوام اتنے ہی جوش و جذبے سے باہر نکلیں گے۔حکمران پرامن احتجاج کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اپنی قبر کھود رہے ہیں ۔ ‎

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…