جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

’’چیف جسٹس سب پر بازی لے گئے‘‘ سکول جانے والے بچوں کیلئے فوری یہ کام کریں حکومت کو ایسا حکم جاری کر دیا کہ جان کر خوش ہو جائیں گے

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کو سکولوں سے پک اینڈ ڈراپ فراہم کرنے والی گاڑیوں میں سکیورٹی اہلکار تعنیات کرنے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ کہتے ہیں شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پنجاب بھرمیں بچوں کے اغوا کے واقعات میں کمی نہیں آرہی۔ 310 بچے ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ پنجاب حکومت نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ سیکرٹری سکولز نے عدالت کو بتایا کہ اے پلس اور اے کیٹگری کے 6000 سکولز میں سی سی ٹی وی کیمرے اور میٹل ڈی ٹیکٹر سمیت تمام انتظامات مکمل ہیں۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سکولز انتظامیہ کے انتظامات سے مطمئن نہیں سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا جائے۔
چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ بچوں کے اغواکے واقعات لمحہ فکریہ ہیں ، ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کواسکولوں سیپک اینڈ فراہم کرنے والی گاڑیوں میں سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیدیا۔ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج ڈاکٹر فیصل مسعود نے بتایاکہ بچوں کے گردے نکالنے کے لیے وقت انتہائی محدود ہوتا ہے۔ بچوں کے اعضا کی پیوند کاری کا کوئی وقوعہ سامنے نہیں آیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر بچوں کی بازیابی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پنجاب حکومت سے طلب کرلی کیس کی مزید سماعت 20 ستمبر کو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…