جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

الطاف حسین کا انتقال،بھارت ،افغانستان اور اسرائیل سے کیا مانگا؟ فاروق ستار کی زندگی کے دن پورے ہوگئے،مصطفی کمال کا دھماکہ خیز انٹرویو

datetime 25  اگست‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال نے کہاہے کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ معافی نامہ آجائے گا، اس معافی نامے کے بعد امریکا میں تقریر ہوئی جس میں دوبارہ ہرزہ سرائی کی گئی، امریکا، اسرائیل، افغانستان اور بھارت سے مدد طلب کی گئی، قائد متحدہ نے اپنی تقریر میں بھارتی کے ہندوؤں سے معافی مانگی اور کہا کہ پاکستان بنانے کی غلطی ہوگئی ہم برطانیہ کے بہکاوے میں آگئے، ہمیں معاف کردو۔ایک خصوصی انٹرویومیں سید مصطفی کمال نے کہاکہ اگر اسی طرح ملک کو چلانا ہے تو ملک مخالف تقریر کرنے والے مزید لوگ پیدا ہوجائیں گے، قائد تحریک کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا اور یہ لوگ قائد کو پارٹی سے الگ کریں گے؟؟؟ ایک بھی مہاجر ان کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتا، یہ لوگ مہاجروں کو بھیڑ بکری سمجھتے ہیں کہ جہاں چاہیں گے لے جائیں گے۔پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے ایم کیو ایم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور آپس میں ملے ہوئے ہیں یہ سب لوگ قوم سے کھیل رہے ہیں، ہماری قائد تحریک سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، ایم کیو ایم نے مہاجروں کو زر خرید غلام سمجھ رکھا ہے، یہ لوگ مہاجروں کے کبھی رکھوالے ہوں گے اب نہیں، اب ہم ہیں مہاجروں کی آواز، ہم اس قوم کو گڑھے سے نکالنے کے لیے آئے ہیں اور پاکستان کو جوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ فاروق ستار عظیم احمد طارق سے بڑے لیڈر نہیں ہیں، فاروق ستار کو اپنی زندگی کی فکر کرنی چاہیے، جس دن فاروق ستار نے پارٹی درست طریقے سے چلانا شروع کردی تو ان کی زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما پارٹی اور قائد سے مخلص نہیں، یہ لوگ انتظار میں ہیں کہ الطاف حسین انتقال کرجائیں اور پارٹی ان کے ہاتھ میں آجائے۔انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ اگر قائد تحریک کی پارٹی کی علیحدگی کی بات درست مان لی جائے تو انہوں نے امریکا میں خطاب کیسے کرلیا؟؟ وہاں کے ورکرز نے انہیں کیوں نہیں کہا کہ آپ پارٹی قائد نہیں رہے؟ اس لیے وقت ضائع نہ کیا جائے فراڈ ہورہا ہے، یہ سب ملے ہوئے ہیں، الطاف حسین آج بھی پارٹی کے قائد ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہونے والا۔مصطفی کمال نے کہاکہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے ہمیں فون کرکے کہا کہ ایک سال رہ گیا ہے ہمیں مراعات انجوائے کرنے دو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…