جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

انگوٹھوں کی تصدیق کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں ڈپٹی چیئرمین نادرا کے انکشاف نے ہنگامہ کھڑا کر دیا

datetime 25  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈپٹی چیئرمین نادرا کے انکشاف نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ڈپٹی چیئرمین نادرا کے مطابق انگوٹھوں کی تصدیق کا سسٹم ہمارے پاس موجود ہے اور اس نظام کے 99.9فیصد رزلٹ صحیح ہوتا ہے تاہم بوڑھے افراد کے انگوٹھوں کی تصدیق کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی )نے قرار دیا ہے کہ نادرا کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے نادرا حکام کی نا اہلی کے باعث عدالتوں میں پارلیمنٹیرینزکو ہزیمت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ انگوٹھوں کی تصدیق کے لئے نادرا حکام جدید نظام سے استفادہ کریں۔ ریجنل آفس کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں اور عوام میں نادرا کا امیج پٹواری جیسا ہیپی اے سی اراکین نادرا حکام پر برس پڑے اور ہدایت کی ۔ پی اے سی کی سب کمیٹی کا اجلاس ایم این اے عاشق گوپانگ کی صدارت میں ہوا جس میں نادرا کے ڈپٹی چیئر مین نے بریفنگ دی۔ بریفنگ دیتے ہوئے نادرا حکام نے کہا کہ کھردری جلد اور بوڑھے افراد کے انگوٹھوں کی تصدیق کا نظام نادرا کے پاس موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے 95فیصد شہریوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب تک 106.8ملین افراد کے شناختی کارڈ بنائے جا چکے ہیں ۔ نادرا کے پاس موجودہ نظام کے تحت ایک سیکنڈ میں55ملین افراد کی تصدیق کی جا سکتی ہے نئے پروگرام کے تحت عوام کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ آن لائن نظام کے تحت بنانے کا نظام جلد شروع کریں گے۔ ملک بھر میں نادرا کے 100سروس سنٹرز موجود ہیں جبکہ551رجسٹریشن آفس ہیں 13غیر ممالک میں نادرا کے رجسٹریشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انگوٹھوں کی تصدیق کا سسٹم ہمارے پاس موجود ہے اور اس نظام کے 99.9فیصد رزلٹ صحیح ہوتا ہے تاہم بوڑھے افراد کے انگوٹھوں کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ ایم این اے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ نادرا کی نا اہلی کے باعث عدالتوں میں پارلیمنٹیرین کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نا اہلی نادرا کی ہوتی ہے جبکہ خمیازہ پارلیمنٹیرین کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ انگوٹھوں کی تصدیق کے مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالا جائے اور نا اہلی کا تدارک کیا جائے۔ عاشق گوپانگ نے کہا کہ نادرا جس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا وہ مقاصد پورے کر کے نئے منصوبے شروع کرنے سے گریز کرے۔ نادراآفس کے باہر عوام کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ نادرا ریجنل آفس کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں آفس کے باہر نادرا کے افسران نے ایجنٹ بٹھا رکھے ہیں۔ جو سادہ لوح لوگوں سے پیسے بٹور رہے ہیں۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے اور کرپشن کو روکا جائے ۔ ڈپٹی چیئر مین نے کہا کہ اسلام آباد کے سیف سٹی منصوبہ بھی نادرا کی سربراہی میں کام کر رہا ہے ۔ 30ہزار سے زائد جعلی شناختی کارڈ بلاک کئے جا چکے ہیں۔
افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل اقوام متحدہ کے تعاون سے مکمل کیا ہے ۔ پی اے سی نے وزارت داخلہ میں بوگس اسلحہ لائسنسوں کا مسئلہ بھی زیر بحث کر دیا۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ اس سکینڈل میں ملوث ملزمان نے عدالتوں سے ضمانتیں کر رکھی ہیں جس کی وجہ ایف آئی اے کی ناقص حکمت عملی ہے۔ اس سکینڈل میں قوم کے خزانہ کا 55کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ ملزمان نے افسران نے ملی بھگ کر کے دوبارہ پوسٹنگ بھی حاصل کر لی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو مقدمہ کی سپردی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سکینڈل میں نیشنل بینک کے افسران بھی ملوث ہیں ان کے خلاف بھی ایکشن لیں گے۔ اجلاس میں بلوچستان حکومت کی طرف سے جہاز کی خریداری میں مبینہ14کروڑ کے اخراجات کا مسئلہ زیر بحث لایا گیا اور کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ مسئلہ بات چیت سے حل کر لیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا بلوچستان حکومت جہاز کی قیمت ادا کرنے میں راضی نہیں ہے۔ پی اے سی کے اجلاس میں سابق حکومت کی طرف سے33بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ وزیراعظم کے رولز بنانے کی بجائے 33بلٹ پروف گاڑیاں خریدی تھیں۔ اس کی ذمہ داری سیکرٹری کیبنٹ پر عائد ہوتی ہے ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ سہیل الطاف نے بتایا کہ وزیراعظم کا لیٹر موجود ہے جس کے تحت خریداری کی گئی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…