بدھ‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2025 

لاہور،شادی والا گھر ماتم کدہ بن گیا،تین منزلہ مکان کی خستہ حال چھت گرنے سے تین بچیاں اور دو خواتین جاں بحق ،سات زخمی

datetime 21  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)صوبائی دارالحکومت لاہور کے گنجان آباد علاقے دہلی گیٹ میں شادی والا گھر ماتم کدہ بن گیا،تین منزلہ مکان کی خستہ حال چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر تین بچیاں اور دو خواتین موت کی آغوش میں چلی گئیں جبکہ سات افراد شدید زخمی ہو گئے ،مرنے والوں میں دلہن کی ماں اور دو بہنیں بھی شامل ہیں ،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔بتایا گیا ہے کہ لاہور کے قدیمی علاقے اکبری گیٹ میں مسجد وزیر خان کے قریب واقع محمد ضمیر نامی شخص کے گھر میں بیٹی کی شادی کی تقریب جاری تھی ۔ اہل خانہ اور مہمان رات گئے تک ہنسی خوشی مہندی کی رسم ادا کرتے رہے اور جیسے ہی تقریب ختم ہونے کے بعد سونے کی تیاری شروع کی گئی تو تین منزلہ مکان کی خستہ حال چھت زور دار دھماکے سے گر گئی۔ چھت گرنے کی اطلاع پر اہل علاقہ کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ امدادی اداروں کی ٹیمیں بھی موقع ر پہنچ گئیں جنہوں نے ملبہ ہٹا کر ملبے کے نیچے سے پانچ لاشوں اور سات زخمیوں کونکال کر میو ہسپتال منتقل کیا ۔ جاں بحق ہونے والوں میں 16سالہ دعا ،9سالہ اقصیٰ،25سالہ مہوش،5سالہ ماہ نور اورچالیس سالہ تفصیلہ ا بیگم شامل ہیں۔ مرنے والوں میں دلہن کی ماں اور دو بہنیں بھی شامل ہیں۔اندرون شہر کی تنگ گلیوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ورثا ء اور اہل علاقہ نے حادثے کا ذمہ داروالڈ سٹی اتھارٹی کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں لیکن والڈ سٹی اجازت نہیں دیتی۔گھر کے مالک ضمیر کا کہنا ہے کہ اس نے تقریباً ایک سال قبل مکان کی دوبارہ تعمیر کے لئے درخواست دی تھی تاہم لاہور انتظامیہ نے نہ تو مکان بنانے کی اجازت دی اور نہ ہی تعمیر کے لئے خود کوئی انتظام کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کو علاج معالجے کی ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہونیوالی ماں اور دو بیٹیوں کی نماز جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین کردی گئی ۔ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہونے والی تنصیلہ اوراس کی د و بیٹیوں اقصیٰ اورماہ نور کی نماز جنازہ مسجد وزیر خان میں ادا کی گئی جس میں عزیز واقارب اور اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی نماز جنازہ کے تینوں کو آہوں اور سسکیوں میں لاری اڈا قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا ۔قبل ازیں جب ماں اور دو بیٹیوں کے جنازے اٹھائے گئے تو کہرام برپا ہوگیا اور رشتہ دار خواتین دھاڑیں مار کرروتی رہیں جس سے فضا ء سوگوار ہوگئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نارمل ملک


حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…

بخارا کا آدھا چاند

رات بارہ بجے بخارا کے آسمان پر آدھا چاند ٹنکا…

سمرقند

ازبکستان کے پاس اگر کچھ نہ ہوتا تو بھی اس کی شہرت‘…

ایک بار پھر ازبکستان میں

تاشقند سے میرا پہلا تعارف پاکستانی تاریخ کی کتابوں…

بے ایمان لوگ

جورا (Jura) سوئٹزر لینڈ کے 26 کینٹن میں چھوٹا سا کینٹن…

صرف 12 لوگ

عمران خان کے زمانے میں جنرل باجوہ اور وزیراعظم…

ابو پچاس روپے ہیں

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ…

ہم انسان ہی نہیں ہیں

یہ ایک حیران کن کہانی ہے‘ فرحانہ اکرم اور ہارون…

رانگ ٹرن

رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…