پشاور(این این آئی)ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی۔غربت اورتنگدستی پشاور پولیس کے کانسٹیبل کاراستہ نہ روک سکی۔ پشاورپولیس کے سپاہی طاہر خان کی جہد مسلسل محنت عزم حوصلے اور ولولے نے اپنی منزل تک پہنچادیا اورآخرکار پی ایچ ڈی کرلی۔ پشاور پولیس کا اہلکار اور ارمڑ پایان کا رہائشی طاہر خان جس نے انیس اٹھاونوے میں گھر کی معاشی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو خیراباد کہہ کر پولیس فورس میں بطور کانسٹیبل شمولیت اختیار کی ،گھر کے حالت قدر بہتر ہوئے تو طاہر خان نے تعلیم کاسلسلہ جاری رکھنے کاعزم کیا ۔ طاہرخا ن کہتے ہیں کہ 2008میں پولیس ڈیپارٹمنٹ سے دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے اجازت مل گئی اورمیں نے تعلیم کاسلسلہ دوربارہ شروع کردیا۔ایم ایس سی کے بعد قائداعظم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی میں داخلہ کروایا ،اب میری پی ایچ ڈی آخری مراحل میں ہے تیسسز مکمل ہوچکے ہیں۔۔، پولیس سپاہی طاہر خان دس سال تک اپنے کندھوں پر پروموشن کے پھول تو نہ لگا سکا لیکن آج اپنے سینہ پر ڈاکٹر طاہر خان کا بیج ضرور لگا لیا ۔۔بائیو ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والے کانسٹیبل کے دو مختلف ریسرچز کو یورپ کے جنرل بک میں بھی شائع کی گئی ہیں ہے کہتے ہے کہ اگر نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی اور اس محاورہ کو سچ کردیکھایا پشاور پولیس کے اس جوان نے یہی تو ہے ایک عام پاکستانی کی خاص کہانی۔