نئی دہلی(آئی این پی)حکام کے مطابق چین اور بھارت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں جی20کے دائرہ کار کے تحت تعاون میں اضافے اور ڈائیلاگ کے فروغ پر رضا مند ہو ئے ہیں ۔بیجنگ میں رواں ہفتے ختم ہونے والے چین بھارت مالیاتی ڈائیلاگ میں شرکت کرنے کے دوران مالیات کی وزارتوں اور دیگر اہم حکومتی محکموں کے اہلکاروں نے اس امر سے اتفاق کیا کہ یہ دونوں ممالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ مالیاتی منیجمنٹ، مائیکرواکنامک پالیسی سازی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے اقدامات میں معلومات اور تجربے کا تبادلہ کریں ۔ ایک بھارتی ماہری اقتصادیات نے یہاں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مالیاتی تبادلوں اور پالیسی رابطے کی سطح کو بہتر بنا کر چین اور بھارت مستقبل کی سرمایہ کاری کرنے اور اعلیٰ سطح پر تجارت کے لئے زیادہ جدید میکنزم مرتب کر سکیں گے جبکہ حکومتی پالیسی اور قوانین کے معاملوں میں بعض خلا کو قدم بہ قدم پر کر لیا جائے گا۔دونوں ممالک نے پہلے ہی عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی اصلاحات کے لئے عالمی مالیاتی گورننس کے زیادہ جمہوری سٹرکچر پر زوردیا ہے تاہم وہ اس میں سہولت کاری کے لئے مناسب وسائل تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ایک اور مقامی ماہر اقتصادیات نے کہا کہ موجودہ سٹرکچر اور فریم ورک ڈگمگا رہے ہیں جبکہ کاروبار کرنے کے لئے زیادہ لچکدار میکنزم روزانہ پروان چڑھ رہے ہیں ۔ اس ماہر اقتصادیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مثال کے طور پر مقامی منڈیوں میں چینی کرنسی رینمنبی اور بھارتی کرنسی روپے کے آزادنہ تبادلے کی باتیں ہو رہی ہیں کیونکہ ایک دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کو امریکی ڈالر اور یورو جیسی تیسری کرنسی کے ذریعے ادائیگی کرنے میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس ماہر اقتصادیات نے کہا کہ 2008کے مالیاتی بحران کے بعد ایشیا پر اب بھی مالیاتی بحران کا سایہ منڈلا رہا ہے ۔ کرنسی کے بارے میں مشترکہ سپورٹ سے بین الاقوامی قیاس آرائی کو دورکرنے میں مدد ملے گی ۔ اس ماہر اقتصادیات نے مزید کہا کہ پانچ برسوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی کرنسی کی شرح ایک تہائی گرگئی ہے اور افراط زر سے بے اطمینانی پیدا ہو رہی ہے ۔ دونوں فریقین مالیاتی تعاون میں اضافے کے لئے اے آئی آئی بی، برکس نیو ڈویلمنٹ بینک اور برکس کنٹنجینسی ریزورارینجمنٹ کو پوری طرح استعمال کرتے ہوئے مالیاتی انٹرایکشن کے لئے پلیٹ فارمز تعمیر کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں ۔