راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)تھانہ مورگاہ کے علاقوں کوٹھہ کلاں ،مورگاہ ، لالہ زار اور ملحقہ علاقوں میں رات کے وقت خواتین اور بچیوں پر خنجر سے حملہ کر کے زخمی کرنے والے پراسرار شخص کی4ماہ گرفتاری کے بعد مذکورہ علاقوں کے مکینوں نے سکھ کا سانس لیا پولیس کے مطابق ملزم کو خنجر حملوں کے ذریعے خواتین کو زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے خنجر حملوں کی اس سیریل میں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال کی 2نرسیں بھی زخمی ہوئی تھیں جن میں سے انعم اشرف نامی نرس بعد ازاں دم توڑ گئی تھی اس ضمن میں نہ صرف خنجر حملوں سے متاثرہ زخمی خواتین نے ملزم کو شناخت کیا ہے بلکہ گرفتاری کے بعد ابتدائی تحقیقات میں ملزم نے خود بھی متعدد وارداتوں کا اعتراف کر کے جائے وقوعہ کی نشاندہی کی ہے گزشتہ 4ماہ سے تھانہ مورگاہ کے علاقوں میں مختلف واقعات میں 18سے زائد خواتین اور بچیوں کو زخمی کرنے والے ملزم کوابتدائی تفتیش کے بعد بدھ کے روز عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں پر سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ فیصل اسلام ہنجرہ نے ملزم کو 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر مورگاہ پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے محمد علی نامی ملزم کوایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی پوٹھوہار کی نگرانی میں9اگست کوہونے والے سرچ آپریشن میں 18مشتبہ افرادکے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا جسے 1ہفتے تک خفیہ حراست میں رکھنے کے بعد16اگست کو اس کی باضابطہ گرفتاری عمل میں لائی گئی اور17اگست کو اسے عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق زیر حراست محمد علی کی شناخت متاثرہ خواتین سے کروائی گئی جن میں سے2 نے اس کے ملزم ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا ہے ذرائع کے مطابق مورگاہ کے رہائشی مبینہ ملزم محمد علی کا تعلق کہوٹہ کے علاقہ نارہ مٹور سے ہے اس ضمن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محمد علی نے 3اگست کو اپینڈکس کا آپریشن بھی کروایا تھا جبکہ نرس کے قتل سے ایک روز قبل اس نے ٹانکے نکلوائے تھے ادھر یہ بھی دعویٰ کیا گیاتھا کہ محمد علی کے ساتھ 2اور ملزمان کوبھی حراست میں لیا گیا محمد علی کو سب سے پہلے خنجر سے متاثرہ اس گھر لے جایا گیا جہاں پر خاتون خانہ سے شناخت کے لئے کہا گیا جس نے ملزم سے بولنے کو کہا اور اس کے بولنے پر اسکے ملزم ہونے کی تصدیق کی چوہدری فیاض کی اہلیہ پر 4ماہ قبل خنجر سے حملہ کیا گیا تھا اسی طرح متاثرہ خواتین کی مدد سے مبینہ ملزم محمد علی کا خاکہ بنا کر بھی علاقہ میں تقسیم کیا گیا تھا یاد رہے کہ مورگاہ کے علاقے میں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال کی 2نرسوں ارم اور انعم اشرف کو بھی خنجر کے وار سے زخمی کیا گیا تھا تاہم انعم اشرف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی بعد ازاں اسی روزٍ23سالہ ثمر رزاق پر بھی خنجر سے حملہ کرنے کے علاوہ گزشتہ ہفتے 10سالہ نور فاطمہ بھی خنجر حملے میں زخمی ہو گئی ذرائع کے مطابق محمد علی کا اپینڈکس کا آپریشن چند روز قبل ہو تھا اور نرس کے قتل سے ایک روز قبل اس نے ٹانکے نکلوائے تھے اورجس وقت پولیس نے اسے گرفتار کیا وہ ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں سکتا تھا بعد میں اس کا خاکہ بنا کرعلاقے میں تقسیم کیا گیا تا کہ اہل علاقہ سے اس کے ملزم ہونے کی تصدیق کرائی جائے ملزم کی گرفتاری سے لے کر عدالت میں پیش کئے جانے تک مختلف اطلاعات گردش کرتی رہیں جس میں خنجر حملے میں زخمی ہونے والی فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال کی نرس نے بھی زیر حراست ملزم کو پہچاننے سے انکاراورپولیس نے زیر حراست ایک ملزم کو نفسیاتی مریض ہونے کے شبہ میں ماہر نفسیات سے طبی معائنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا جبکہ ملزم کو مزید تفتیش کے لئے سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ ،کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور ہومو سائیڈ انوسٹی گیشن یونٹ سمیت تحقیقات کے مختلف مراحل سے گزارا گیا۔
17اگست کو ایس ایچ او تھانہ مورگاہ ملک کوثر نے محمد علی کو عدالت کے روبرو پیش کرکے موقف اختیار کیا ملزم کو خنجر حملوں کے ذریعے خواتین کو زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے خنجر حملوں کی اس سیریل میں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال کی 2نرسیں بھی زخمی ہوئی تھیں جن میں سے انعم اشرف نامی نرس بعد ازاں دم توڑ گئی تھی اس ضمن میں نہ صرف خنجر حملوں سے متاثرہ زخمی خواتین نے ملزم کو شناخت کیا ہے بلکہ گرفتاری کے بعد ابتدائی تحقیقات میں ملزم نے خود بھی متعدد وارداتوں کا اعتراف کر کے جائے وقوعہ کی نشاندہی کی ہے محمد علی کے لواحقین کے مطابق پولیس محمد علی پر تشدد کر کے اس سے زبردستی گناہ قبول کروانا چاہتی ہے ۔
خواتین اور لڑکیوں پر خنجر سے وار کرنے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں