بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں 7 کروڑ افراد کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف،کھلبلی مچ گئی

datetime 17  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو کو بتایا گیا ہے کہ حکومتی ایجنسیوں اور اداروں کے پاس ملک کے 7 کروڑ عوام کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔چیف شماریات آصف باجوہ نے کمیٹی کو ملک میں مردم شماری کے انعقاد سے متعلق اقدامات کے حوالے سے بریفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ ملک کی 19 کروڑ 60 لاکھ آبادی میں سے 7 کروڑ کا پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ 7 کروڑ لوگ کیا کرتے ہیں، کہاں رہتے ہیں اور ان کا ذریعہ معاش کیا ہے اس حوالے سے ہمیں کچھ معلوم نہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں آبادی کے تعین کیلئے مردم شماری ضروری ہے اور لوگوں سے متعلق معلومات مردم شماری کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں، جبکہ ملک میں مہاجرین کی تعداد کے تعین کے لیے بھی مردم شماری ناگزیر ہے۔آصف باجوہ نے کہا کہ مردم شماری کرانے کے لیے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی تیاری مکمل ہے اور مردم شماری کرانے کا مسمم ارادہ بھی ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے پاک فوج کی عدم دستیابی کے باعث تاحال مردم شماری کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کرانے کے لیے ایک لاکھ 66 ہزار شمار کنندہ کی ضرورت ہے، جبکہ یہ کام فوج کے بغیر ممکن نہیں اور نہ ہی فوج کے بغیر مردم شماری کرانے کا کوئی متبادل پلان موجود ہے۔کمیٹی اراکین نے مردم شماری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ وہ اس کے لیے کوئی متبادل پلان تیار کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…