بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

خدارا یہ کام ہرگز نہیں کریں۔۔ سعودی عرب سے لاکھوں افراد کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تو ۔۔

datetime 6  اگست‬‮  2016 |

سلام آباد (آن لائن)پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین چوہدری محمد افضل نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے 37 لاکھ پاکستانیوں میں سے نوے فیصد ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔ انہیں کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہیں ہے چند کمپنیوں کے بلز کے عدم ادائیگی کی وجہ سے چند ہزار پاکستانیوں کو تنخواہ کے مسائل ہیں۔ خادم الحرمین کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یہ مسائل جلد حل ہو جائیں گے مگر چند ناعاقبت اندیش لوگ ناسمجھی کی وجہ سے اس معاملہ کو بڑا ایشو بنا کر پاک سعودیہ تعلقات خراب کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ مشکل کی گھڑی میں ہمیں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سینئر وائس چیئرمین پوئپا سرفراز ظہور چیمہ، میکائیل خان بنگش، محمد افضل وڑائچ، احمد علی صدیقی، سید فاروق شاہ کے علاوہ پروموٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مرکزی چیئرمین پوئپا چوہدری محمد افضل نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب کے حوالے سے انتہائی سمجھداری کا ثبوت دینا چاہئے۔ فہم و فراست سے کام لینا ہوگا۔ پاکستان کے علاوہ دیگر ملکوں کی افرادی قوت کو بھی مسائل کا سامان ہے مگر ایک سازشی ٹولہ میڈیا میں اس ایشو پر آگ بھڑکا رہا ہے۔
سعودی عرب پاکستان کا محسن ہے ہر برے وقت میں پاکستان کا بڑا بھائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اس وقت اگر یہ سازشی عناصر کامیاب ہو گئے اور سعودی عرب سے لاکھوں افراد کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تو ایک طرف پاکستان کی اکانومی دھڑام سے زمین بوس ہوگی اور دوسری طرف بے روزگاری کا سیلاب امڈ آئے گا۔ 1990 سے کویت سے آنے والے پاکستانی آج تک بیروزگار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ پاک سعودیہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے والوں کو نکیل ڈالی جائے اور ساتھ ہی جن پاکستانیوں کو مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کروانے کیلئے پاکستانی سفیر لیبر اتاشی سمیت وفاقی اور وزیر لیبر اینڈ مین پاور کو مثبت اور تیز رفتار کردار ادا کرنے کا پابند کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر پورٹ طلب کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…