بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ، فائرنگ ،آنسو گیس ،پیلٹ شیلنگ کا استعمال،درجنوں زخمی

datetime 30  جولائی  2016 |

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین کیخلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں 100سے زائد مزید بیگناہ شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے حالیہ انتفادہ کے دوران نہتے کشمیریوں کے بڑھتے ہوئے قتل عام کے خلاف سرینگر، بڈگام، گاندر بل، لولاب، کپواڑہ، تریہگام، کرالہ پورہ، ہندواڑہ، رفیع آباد، ٹنگمرگ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، بیج بہاڑہ، کھڈونی، قائموہ، کولگام، پلوامہ، کاکپورہ، پامپور، اونتی پورہ، ترال ، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں زبردست مظاہرے کیے۔ یا د رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انتفادہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہوا تھا اور پر امن مظاہرین پر بھارتی فورسز کی فائرنگ ، پیلٹ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث اب تک 56 بے گناہ کشمیری شہید جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس اور پیلٹ شیلنگ کا بے دریغ استعمال کیا جس سے 100سے زائد افراد زخمی ہو گئے ۔ بہت سے زخمیوں کو انتہائی نازک حالت میں مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ بھارتی فورسز نے ہسپتالوں پر بھی شیلنک کی۔ مظاہرین نے سرینگر کے علاقے سونہ وار میں قائم اقوام متحدہ کے مبصرین دفتر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کیخلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک یادداشت پیش کرنا چاہی تاہم جونہی مظاہرین یہاں پہنچے تو بھارتی فورسز نے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کر کے انہیں منتشر کر دیا۔ بھارتی فورسز نے سرینگر کے کئی علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیپر گیس کا بھی استعمال کیا جس کے باعث ان علاقوں کے لوگوں خاص طور پر معمر افراد اور چھاتی کے انفیکشن میں مبتلا افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں کے لوگوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو مارا پیٹا اور گھریلو اشیا ء کی توڑ پھوڑ کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…