اسلام آباد (این این آئی) لال مسجد کی شہداء فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ تیرہ جولائی کو اوکاڑہ میں مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں مارے جانے والے چھ افراد میں سے دو افراد کی شناخت ہوگئی ٗیاسب الرحمن ولد مراد گل خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز کے سیکیورٹی گارڈ ٗ حافظ سعیدالرحمن ولد حمیدالرحمن جامعہ حفصہ اسلام آباد کے عملے میں شامل تھے۔ترجمان شہداء فاؤنڈیشن نے اوکاڑہ میں مبینہ طور پر بدھ کو ہونے والے پولیس مقابلے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یاسب الرحمٰن اور حافظ سعیدالرحمٰن گزشتہ ایک سال سے حکومتی اداروں کی تحویل میں تھے اور انہیں ریاستی اداروں نے اپنی تحویل میں تشدد کرکے قتل کیا ہے،سپریم کورٹ واقعہ کا فوری طور پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقتولین کی لاشوں کی پوسٹ مارٹم کے لئے غیرجانبدار میڈیکل بورڈ قائم کرے تو اصل حقائق سامنے آجائیں گے۔ترجمان شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد) حافظ احتشام احمدنے واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تیرہ جولائی کو اوکاڑہ میں مبینہ طور پر ہونے والے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’یاسب الرحمن ولد مراد گل عرف محمد آصف اور حافظ سعیدالرحمٰن ولد حمیدالرحمٰن گزشتہ ایک سال سے ریاستی اداروں کی تحویل میں تھے،حافظ سعید الرحمن کو گزشتہ سال چھبیس اگست کو حراست میں لیا گیاتھا یاسب الرحمٰن کو گزشتہ سال 28اگست کو راولپنڈی سے اپنی تحویل میں لیا گیاتھا،گزشتہ ایک سال سے خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز اپنے ہر بیان میں دونوں افراد کی ریاستی اداروں کی تحویل میں موجودگی کا ذکر کرتے رہے،اس حوالے سے تمام بیانات آن ریکارڈ موجود ہیں ترجمان نے کہاکہ اوکاڑہ میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے دہشت گرد نہیں بلکہ مارنے والے دہشت گرد ہیں، اس طرح کے اقدامات ملک میں شدت پسندی اور انتہاء پسندی کو جنم دیں گے ترجمان نے کہاکہ سپریم کورٹ واقعہ کا فوری طور پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اوکاڑہ میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے تمام افراد کی لاشوں کی پوسٹ مارٹم کے لئے غیرجانبدار ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دے،غیرجانبدار میڈیکل بورڈ کے تحت مقتولین کی لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اصل حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے،سپریم کورٹ نے واقعہ کا ازخود نوٹس نہ لیا تو مقتولین کی لاشوں کی پوسٹ مارٹم کے لئے غیرجانبدار میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور لاشوں کی حوالگی کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کریں گے۔