منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

سینکڑوں ممالک کو شکست۔۔بھارت جتنے مرضی طیارے لے‘ پاک فضائیہ کے سربراہ کا زبردست بیان

datetime 13  جولائی  2016 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایئرچیف مارشل سہیل امان کا کہنا ہے کہ بھارت کے جنگی طیارے حاصل کرنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ ہمارا جے ایف 17 تھنڈر پوری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز ایئرچیف مارشل سہیل امان نے راولپنڈی کے نورخان ایئربیس کا دورہ کیا اور برطانیہ میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ائیرفورس شو فئیرفورڈ رائل انٹرنیشنل ائیرشومیں شرکت کرنے والے پاکستان کے ‘‘سی ون تھرٹی’’ کا معائنہ کیا، اس موقع پر انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے سیکڑوں طیاروں کو شکست دے کر ٹرافی جیتنے پرعملے کو مبارکباد بھی دی اوران کے حوصلے کو بھی سراہا۔ایئرچیف مارشل سہیل امان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی ون تھرٹی نے شو میں مسلح افواج اور قوم کی نمائندگی کی، طیارے کا ٹرافی جیتنا پوری قوم کے لیے اعزازہے جب کہ پاک فضائیہ نے مثالی کارکردگی کو ایئرشو میں برقراررکھا۔ سی ون تھرٹی کے ذریعے ہم نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قوم یکجا ہیں۔ائیرچیف مارشل نے کہا کہ تینوں مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جس اتحاد کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں مسلح افواج اور قوم کا اتحاد مثالی ہے۔
ایئرچیف نے کہاکہ ایئرشو میں 50 ممالک کے جدید طیاروں میں پاک فضائیہ کے طیارے کی کامیابی ایک اعزاز ہے طیارے پر ضرب عضب کے حوالے سے آرٹ واک دہشتگردی کے خلاف پاکستانی عزم اجاگر کرتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ضرب عضب میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے ضرب عضب آخری دہشتگردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ہمیں مزید طیاروں کی ضرورت ہے، اس کے لئے حکومت اور عالمی اداروں سے بات چیت چل رہی ہے۔ بھارت کے جنگی طیارے حاصل کرنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ ہمارا جے ایف 17 تھنڈر طیارہ اپنی مثال آپ ہے اور پوری دنیا میں مانا جاتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ میں ہونے والے رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو شو میں پاک فضائیہ کے C-130 جہاز نے کامیابی حاصل کی تھی اس شو میں 50 سے زائد ممالک کے جدید جہازوں نے حصہ لیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…