منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

مفتی عبدالقوی کی پریس کانفرنس،نیافتویٰ جاری کردیا

datetime 11  جولائی  2016 |

ملتان (آئی این پی ) معروف عالم دین مفتی عبد القوی نے عبد الستار ایدھی کی وصیت اور آنکھوں کے عطیہ کو شرعی قرار دینے کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر خون کا عطیہ دینا اور انسانی اعضاء (گردے ،جگر ) دینا جا ئز ہے تو پھر آنکھوں کا عطیہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ ملتان میں مدرسہ عبیدیہ قدیر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ہمیں عبد الستار ایدھی کی خدمات پر فخر ہے جس طرح لوگ قائد اعظم ؒ سے محبت کرتے ہیں اسی طرح عبد الستار ایدھی کو بھی عوام نے سلام عقیدت پیش کیا ہے۔ عبد الستار ایدھی کی وصیت کے مطابق ان کی دونوں آنکھیں دو نابینا افراد کو لگائی گئیں جس سے ان کی بینائی بحال ہو گئی مگر ان کے اس عمل کو غیر شرعی قرار دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے مجھے ٹیلی فون کالز موصول ہو ئی ہیں یہ کیونکہ ایک حساس شرعی مسئلہ ہے لیکن جب ایک انسان کے خون کی منتقلی دوسرے انسان میں ہو سکتی ہے اور اگر انسانی اعضاء دوسرے کو دیئے جا سکتے ہیں اور اعضا ء کی پیوند کاری بھی جا ری ہے تو یقیناًعلماء کو اس بات پرغور کرنا چاہیے۔ اگر ایک نابینا شخص کو آنکھیں فراہم کر کے بینائی دی جا سکتی ہے تو پھر اس پر علماء کا متفقہ فتوی آنا چاہیئے چنانچہ اس سلسلے میں شرعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے جمعرات کو گیارہ بجے دن اسلام آباد میں اہم اجلاس ہو گا انہوں نے کہا کہ ہم جو سوال نامہ تیار کریں گے وہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے 215علماء کو بھیجا جا ئے گا اور یہ سوال کیا جا ئے گا کہ جب اسلام میں خون انسانی جان کو بچانے کے لئے اعضاء کے ٹرانسپلانٹ کی اجازت ہے تو موت کے بعد انسانی اعضاء کی منتقلی کیوں نہیں ہو سکتی۔ مفتی عبد القوی نے کہا کہ ہم انشاء اللہ قوم کو یہ خوشخبری دیں گے کہ علماء اس مسئلے پر اتفاق کریں گے اور انسانیت کے ناطے ایک انسان دوسرے انسان کے کام آ سکے گا اور عبد الستار ایدھی کا آنکھیں عطیہ کر نے کا عمل بالکل درست ثابت ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…