جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

عیدسے قبل سرکاری ملازمین کیلئے ایک اور بری خبر آ گئی‘ رقوم واپس

datetime 4  جولائی  2016 |

اسلام آبا د (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی محتسب کے فیصلہ کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاؤنڈیشن کو وفاق کے سرکاری ملازمین کی جانب سے 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد فارم جمع کروانے والے ملازمین اور تقریباً 6 ارب روپے فرسٹ انسٹالمنٹ کے طور پر جمع کروانے والے ملازمین کو انکی رقم واپس کئے جانے پر غور شروع ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی محتسب نے گزشتہ ہفتے فیصلہ دیا تھا کہ وفاق کے سرکاری ملازمین کی جانب سے ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے جو پیسے فارم کی صورت میں وصول کئے ہیں وہ نا جائز ہیں اور فارم جمع کروانے والے تمام وفاقی ملازمین کو ان کی رقم واپس ہونی چاہیے۔ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ذرائع نے بتایا کہ وفاقی محتسب نے اس سے پہلے بھی کئی فیصلہ کئے ہیں لیکن ان فیصلوں یا پالیسیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے ایک اعلیٰ آفیسر نے نام نہ طاہر کرنے پر بتایا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا ہدف 19 ارب تھا جبکہ کیٹگری 1 کے لیے بیوروکریسی کی جانب سے رضامندی کے لیٹر کے بعد سیکٹر ایف چودہ کیلئے 15 لاکھ جبکہ بہارہ کہو کیلئے 10 لاکھ روپے جمع کروائے گئے جبکہ دوسری جانب کیٹگیری ٹو، تھری اور فور کے الاٹیوں نے عدم دلچسپی کے باعث تاحال پیسے جمع نہیں کروائے جبکہ اسکی آخری تاریخ 31 جولائی رکھی گئی ہے۔
وفاقی محتسب ذرائع نے بتایا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے رضامندانہ لیٹر ارسال کئے گئے جس کے بعد درخواست گزاروں کو اپنی کیٹیگری کے تحت فرسٹ انسٹالمنٹ جمع کروانے کا کہا گیا ہے جس کے بعد ابھی تک 6 ارب سے زائد پیسے جمع ہو چکے تاہم تاحال ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے زمین کی خریداری نہین کی گئی ہے جو کہ انتظامیہ اور وفاقی حکومت کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زمین کی خریداری سے قبل ہی پلاٹ الاٹ کرنے کے نام پر پیسے اکٹھا کرنا ناجائز اور غیر قانونی ہے جس کے تحت وفاقی محتسب نے فیصلہ دیا ہے کہ تمام الاٹیوں کو ان کی رقم واپس کی جائے، پہلے ہاؤسنگ فاؤنڈیشن زمین کا تعین کرے اور زمین کی خریداری کے بعد درخواست گزاروں اور رضامندانہ لیٹر وصول کرنے والوں کو فرسٹ انسٹالمنٹ کی درخواست کی جائے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس طرح کہ فیصلوں سے کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی جبکہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے جن وفاقی ملازمین سے پیسے وصول کئے ہیں ان کو مزید 5 سال تک پلاٹوں کی فراہمی ادارہ کیلئے ناممکن ہے۔
ذرئع کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے گزشتہ سال سے ممبر شپ کھول رکھی ہے جس کی آخری تاریخ ہر ماہ بڑھا دی جاتی ہے جبکہ بار بار تاریخوں کا بڑھانے کا مقصدصرف فنڈ اکٹھا کرنا ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے موصول ہونے والی 1 لاکھ 35 ہزار درخواستیں بھی تاحال کمپیوٹرائزڈ نہیں ہو سکی ہیں تو ادارہ کس بناہ پر وفاقی ملازمین کو پلاٹ الاٹ کرے گا؟۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی محتسب چونکہ ایک گورنمنٹ کا ادارہ ہے تو اس کے فیصلہ سے عوام پر غلط تاثر جائے گا ۔ آن لائن کے رابطہ کرنے پر پرسنل سیکرٹری ٹو منسٹر غلام مجتبیٰ کا کہناتھا کہ ان کے علم میں وفاقی محتسب کا ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ فاؤنڈیشن وقاص علی محمود اس حوالے سے بہتر بتا سکتے ہیں ۔ آن لائن کے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل وقاص علی محمود نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا موقف دینے سے انکار کردیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے آگ بگولہ ہو کر کہا کہ میرا تعلق حمزہ شہباز تک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…