منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے فیصلے کیخلاف خیبرپختونخواحکومت ڈٹ گئی

datetime 1  جولائی  2016 |

پشاور(این این آئی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اور اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ وفاق افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے بجائے انِ کی باعزت واپسی کا شیڈول طے کرے، خیبر پختونخوا پر 12لاکھ کے قریب رجسٹرڈ اور اتنی ہی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کا بوجھ ہے جن کی ایک طویل عرصہ سے مہمان نوازی کر رہے ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ افغان مہاجرین کو محض جنبش قلم سے نکال باہر کیا جائے ، وفاق کو چاہئے کہ وہ ایک جامع پالیسی اور شیڈول کے تحت ان کی اپنے ملک کو واپسی یقینی بنائے۔ بدھ کے روز افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی ایک بار پھر توسیع کے فیصلے پر ردعمل میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے قیام میں بار بار توسیع دینے کا فیصلہ درست نہیں ہے، خیبر پختونخوا حکومت کا آج بھی وہی موقف ہے کہ اب افغان مہاجرین کو اپنے ملک ہر حال میں واپس بھیجا جائے لیکن اگر وفاق افغان مہاجرین کو پاکستان میں مزید رکھنا چاہتی ہے تو پھر ان کو تمام صوبوں میں برابر کی تعداد میں بھیجا جائے۔ افغان مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے صوبہ کی معاشی حالت کے ساتھ امن و امان کی صورتحال پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ہمارا صوبہ ایک غریب صوبہ ہے جو افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ فاٹا متاثرین آپریشن کا بھی سنبھالے ہوئے ہے،انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا فیڈریشن کا حصہ ہے ہم وفاق کے فیصلہ کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں لیکن ہم وفاق کو بتانا چاہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری اور امن و امان کے قیام کے لئے افغان مہاجرین کے دیرینہ مسئلہ کو ٹھوس بنیادوں پر حل کرنا ہو گا، خیبر پختونخوا میں مقیم رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو یہاں کبھی کوئی بھی مسئلہ درپیش نہیں آیااور ہم نے گزشتہ 30برس سے خوب مہان نوازی کی ہے لیکن ہم اب افغان مہاجرین کے مزید قیام میں توسیع کے بجائے ان کی باعزت اپنے وطن واپسی کے خواہش مند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…